Search Results for: Best Es

افسانہ نگار ی میں پاکستانی قلم کار خواتین کا کردار کے موضوع پرمنعقدہ آن لائن سیمینار

اگر ہمیں اپنے ادب اورافسانہ کو زندہ رکھنا ہے تو ہمیں اپنی زمین سے جڑے رہنا ہوگا۔ نورالہدٰی شاہ

سستی کتابیں چھاپی جائیں تاکہ لوگوں کو ان کی خرید میں آسانی ہوا س طرح ہمارا ادب فروغ پا سکے گا۔ نیلم احمد بشیر

خواتین قلم کاروں نے اپنے فکشن اور مزاحمت کے ذریعے ہماری خواتین کو جینے کا شعور اور سلیقہ سکھایا۔ حفیظ خان

اکادمی ادبیات پاکستان ان زبانوں کے ادب پر بھی کام کررہی ہے جن کے معدوم ہونے کا خطرہ ہے ۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین اکادمی

اسلام آباد(پ۔ر) اکادمی ادبیات پاکستان ان زبانوں کے ادب پر بھی کام کررہی ہے جن کی تحریریں معدوم ہو چکی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر یوسف خشک ، چیئرمین اکادمی نے ا کادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام ،پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کے سلسلہ کی چودہویں تقریب ”افسانہ نگار ی میں پاکستانی قلم کار خواتین کا کردار “ کے موضوع پرمنعقدہ آن لائن سیمینار میں ابتدائیہ پیش کرتے ہوئے کیا۔صدارت نور الہدیٰ شاہ(کراچی)نے کی۔ نیلم احمد بشیر(لاہور) مہمان خصوصی تھیں۔خصوصی تجزیہ نگاروں میں حفیظ خان(اسلام آباد) ، غافر شہزاد(لاہور)اور ڈاکٹر عامر سہیل شامل تھے ۔ سلمیٰ جیلانی(نیوزی لینڈ)، مسرت کلانچوی(لاہور)، سیدہ عطیہ(پشاور) اور ڈاکٹر شائستہ نزہت(اسلام آباد) مہمانان اعزازتھیں۔ شائستہ مفتی(کراچی)، افشاں عباسی(اسلام آباد)،شمسہ نجم، شمیم فضل خالق (پشاور)، طاہرہ اقبال (فیصل آباد) اور ڈاکٹر شمیم انصاری نےمختلف موضوعات پرمقالات پیش کیے۔ عقیلہ حق(کراچی)، صائمہ نفیس(پشاور)، حجاب عباسی(کراچی)، گل ارباب(پشاور) اور فرحین جمال(بیلجیئم) بھی مذاکرے میں شریک تھیں۔ نظامت فرحین چوہدری نے کی۔ یہ تقریب ادبی وثقافتی تنظیم لٹریری آرٹ اینڈ کلچرل سنڈیکیٹ(لیکس) کے تعاون سے منعقد کی گئی۔ ڈاکٹر یوسف خشک نے کہا کہ ڈائمنڈ جوبلی کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان کا پچھترواں سال 14اگست 2021سے شروع ہوا جو 14اگست 2022 کو مکمل ہوگا۔ اکادمی کے تھنک ٹینک کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ پچتھرواں سال قوموں کے ارتقاءمیں کتنی اہمیت رکھتا ہے اور وہ نسل کتنی خوش نصیب ہوتی ہے جو ڈائمنڈ جوبلی منا رہی ہو۔ہماری کوشش ہے کہ اکادمی ادبیات پاکستان کے پلیٹ فارم سے ان ادیبوں، شاعروں اور اہل قلم کو منظر عام پر لایا جائے جن کی وجہ سے آج ہم یہاں تک پہنچےہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اکادمی نے پچاس سال سے کم عمر اہل قلم کے حوالے سے ایک پروجیکٹ شروع کررکھا ہے جس کے تحت ان کی تحریروں کے تراجم دوسرے ملکوں کی زبانوں میں کرائے جارہے ہیں تاکہ دوسرے ممالک کے لکھنے والے ان تحریروں سے روشنا س ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان ان زبانوں کے ادب پر بھی کام کررہی ہے جن کے معدوم ہونے کا خطرہ ہے۔ نور الہدٰی شاہ نے صدارتی کلمات اد اکرتے ہوئےکہا کہ ترقی پسند تحریک کے بعد ہماری شاعرات کھل کر عملی طور سامنے آئیںاور خواتین کو اپنے حقو ق کے لےے کھڑے ہونے کا شعور دیا۔ خواتین افسانہ نگار اور شاعرات کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عورت پورا سچ دیکھتی ہے مگر آدھا سچ لکھتی ہے جبکہ مرد آدھا سچ دیکھتا ہے اور پورا سچ لکھتا ہے۔ ہماری خواتین افسانہ نگاروں کا کام بڑا قابل فخر ہے۔جب بھی سماج میں تبدیلی آنے کا سوچا جائے گاتو اس میں پاکستان کی ہر زبان کی افسانہ نگار خواتین کا نام ضرور سامنے آئے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمارا قاری پاپولر فکشن کی طرف چلا گیا ہے جس کی وجہ سے ہمارے افسانہ نگار پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ اگر ہمیں اپنے ادب افسانہ کو زندہ کرنا ہے تو ہمیں اپنی زمین سے جڑے رہنا ہوگا۔ نیلم احمد بشر نے کہاکہ اس تقریب نے سب پہلوﺅں کا احاطہ کیا ہے اس سلسلے کو جاری رکھا جانا چاہےے۔ انہوں نے تجویز دی کہ سستی کتابیں چھاپی جائیں تاکہ لوگوں کو ان کی خرید میں آسانی ہوا س طرح ہمارا ادب فروغ پا سکے گا۔ انہوں نے اکادمی ادبیات پاکستان کے تحت ایک ادبی چینل کے قیام اورادبی و ثقافی اداروں میں چھوٹی چھوٹی لائبریریوں کے قیام کی بھی تجویز دی جہاں لو گ بیٹھ کر کتب سے استفادہ کر سکیں۔ حفیظ خان نے کہا کہ ہمارے ہاں مارشل لاءدور میں جو خواتین قلم کار سامنے آئیں انہوں نے اپنے فکشن اور مزاحمت کے ذریعے ہماری خواتین کو جینے کا شعور اور سلیقہ سکھایا۔ انہوں نے تجویز دی ہے کہ اکادمی ادبیات پاکستان اور وفاقی و صوبائی حکومتیں ادبی اداروں کو جو گرانٹ دیتی ہیںاس گرانٹ سے کم از کم ایک خاتون افسانہ نگار کی کتاب شائع کرنے کے حوالے سے ان اداروں کو پابندکیا جائے۔ غافر شہزاد نے کہاکہ ہمیں ادب میں خواتین فکشن رائٹرز کا ایک بڑا حصہ دیکھنے کو ملتا ہے ۔ فکشن کی تنقید کو بھی ہماری خواتین مد نظر رکھیں تو وہ ادب میں نمایاں حصہ ڈال سکتی ہیں۔ ڈاکٹر عامر سہیل نے کہا کہ خواتین افسانہ نگار مردوں کے حوالے سے تو کم ہیں لیکن معیار کے حوالے سے بہت آگے ہیں۔ انہوں نے افسانے کے حوالے سے ہفتہ وار نشستوں کے انعقاد پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ افسانہ لکھا تو جارہا ہے لیکن اشاعت سے آراستہ نہیں ہوپارہا۔ سلمی جیلانی نے کہا کہ ہمار ی خواتین اس سطح کے افسانے تخلیق کر رہی ہیں جنہیں کسی بھی ادب کے مقابلے میں رکھا جا سکتا ہے۔ خواتین بہت باریک بینی سے مسائل کا تذکرہ کرتی ہیں۔ معاشرتی ناہمواریوں کے خلاف توانا آواز خواتین ہی اٹھا سکتی ہیں۔ مسرت کلانچوی نے کہاکہ خواتین کو اس پروگرام کے انعقاد سے بڑا حوصلہ ملا ہے اس سلسلے کو جاری رہنا چاہیے۔ اکادمی خواتین افسانہ نگاروں کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ پروگرامز ترتیب دے۔ سیدہ عطیہ نے کہا کہ ہمارے ہاں لکھنے پر مختلف قسم کی قدغنیں لگی ہوئی ہیں۔ کتاب کی اشاعت کے اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ بہت سی خواتین نے لکھنے کے بعد مسودے الماریوں میں رکھ چھوڑے ہیں۔ اکادمی کو لکھنے والی خواتین کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اس سے بہت اچھا ادب سامنے آسکتا ہے۔ ڈاکٹر شائستہ نزہت نے کہا کہ ادبی اداروں کو مشاعروں کی طرح افسانہ کے حوالے سے بھی ہفتہ وار نشستوں کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ افسانہ رواج پا سکے۔ہر نشست میں کسی ایک افسانہ نگار کا افسانہ پیش کر کے اس پر سیر حاصل گفتگو کی جائے۔ شائستہ مفتی نے کہاکہ آج ہر طبقہ اور سماج سے لکھنے والی خواتین سامنے آرہی ہیں، آج کا مصنف آزاد ہے وہ کسی بھی نظریےمیں قید نہیں رہ سکتا۔ افشاں عباسی نے کہا کہ اردو افسانے کی زوال پذیری کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بہت سے اچھے افسانہ نگار آہستہ آہستہ ہم سے رخصت ہو رہے ہیں۔ افسانے لکھے تو جارہے لیکن چند ایک کو چھوڑ کر باقی سب افسانے کی قدر میں اضافہ کا باعث نہیں بن سکے۔ شمسہ نجم نے کہا کہ مرد اور عورت کی تفریق کےے بغیر اس بات پر غور کرنا چاہےے کہ افسانہ نگاروں کی تعداد کم کیوں ہے۔ افسانہ نگاری الگ اور شاعری الگ صنف ہے ۔ ایک تخلیق کار کسی بھی صنف کو اظہار کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔ شمیم فضل خالق نے کہا کہ خواتین کے افسانوں کا کینوس زیادہ وسیع نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ کتاب سے دوری اور پڑھنے والوں کا فقدان ہے۔ طاہرہ اقبال نے کہا کہ ادب معاشرے کی اہم اکائی ہے۔ ادیب کو کسی خاص نظرےے یا سوچ میں رہ کر ادب تخلیق کرنے پر پابند نہیں کیا جا سکتا۔ ادب انفرادی ہوتا ہے اجتماعی نہیں ۔ ڈاکٹر شمیم انصاری نے کہا کہ آزادی کے بعد خواتین افسانہ نگاروں کی تحریروں میں تغیر آیا۔ میں سمجھتی ہوں کہ بہترین افسانہ ڈرامے کے بغیر اپنی حیثیت پر ماتم کرتا نظر آتا ہے ۔ افسانے کا مزاج ماحول سے بھی ہم آہنگ ہوتا ہے۔ اس کے بعد مذاکرے کے سیشن میں عقیلہ حق(کراچی)، صائمہ نفیس(پشاور)، حجاب عباسی(کراچی)، گل ارباب(پشاور) اور فرحین جمال(بیلجیئم)نے پیش کےے جانے والے مقالات کے حوالے سے اظہا ر خیال کیا۔


اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام ،پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کے سلسلہ کی چودہویں تقریب ”افسانہ نگار ی میں پاکستانی قلم کار خواتین کا کردار “ کے موضوع پرمنعقدہ آن لائن سیمینار میں فرحین چوہدری، ڈاکٹر یوسف خشک، افشاں عباسی اور دیگر اسٹیج پر بیٹھے ہیں۔


اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام ،پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کے سلسلہ کی چودہویں تقریب ”افسانہ نگار ی میں پاکستانی قلم کار خواتین کا کردار “ کے موضوع پرمنعقدہ آن لائن سیمینار کے شرکا

Pakistan Academy of Letters, Islamabad

Press Release

If we want to keep our literature and fiction alive, we have to stay connected to our land. Noor-ul-Huda Shah

Cheap books should be printed so that people can easily buy them so that our literature can be promote. Neelam Ahmad Bashir

Through their fiction and resistance, women writers taught our women the consciousness and manners of living. Hafeez Khan

Pakistan Academy of Letters is also working on literature of these languages that are in danger of extinction. Dr. Yousuf Khushk, Chairman PAL.

ISLAMABAD: Pakistan Academy of Letter is also working on literature in languages whose writings have become extinct. These views were expressed by Dr. Yousuf Khushk, Chairman, Pakistan Academy of Letters (PAL) while presenting the key-note address in the 14th program of Pakistan’s Diamond Jubilee Celebrations series, an online seminar on “Role of Pakistani Women Writers in Fiction”organized by the PAL. Seminar presided over by Noorul Huda Shah (Karachi). Neelam Ahmed Bashir (Lahore) was the chief guest. Special Analysts included Hafeez Khan (Islamabad), Ghafar Shehzad (Lahore) and Dr. Amir Sohail. Salma Jilani (New Zealand), Musarat Kalanchoi (Lahore), Syeda Atiya (Peshawar) and Dr. Shaista Nuzhat (Islamabad) were the guests of honor. Shaista Mufti (Karachi), Afshan Abbasi (Islamabad), Shamsa Najam, Shamim Fazal Khaliq (Peshawar), Tahira Iqbal (Faisalabad) and Dr. Shamim Ansari presented articles on various topics. Aqila Haq (Karachi), Saima Nafees (Peshawar), Hijab Abbasi (Karachi), Gul Arbab (Peshawar) and Farheen Jamal (Belgium) also participated in the Muzakira. Farheen Chaudhry was the moderator. The event was organized in collaboration with the Literary and Cultural Organization Literary Arts and Cultural Syndicate.
Dr. Yousuf Khushk said that in view of the Diamond Jubilee, the 75th year of Pakistan started from August 14, 2021 and will end on August 14, 2022.
The think tank of the PAL came up with the idea of how important the 75th year is in the evolution of nations and how lucky the generation is to be celebrating the Diamond Jubilee.
We strive to bring to the fore from the platform of the PAL the Intellectuals, poets and writers who have brought us here today.He said that the PAL has started a project on writers under the age of fifty under which their writings are being translated into the languages of other countries so that the writers of other countries can get acquainted with these writings.

He said that the PAL is also working on literature of these languages that are in danger of extinction.

Noor-ul-Huda Shah, while presiding, said that after the progressive movement, our poetry came to the fore in practice and made women aware to stand up for their rights. Commenting on women novelists and poets, she said that a woman sees the whole truth but writes half the truth while a man sees half the truth and writes the whole truth. The work of our women fiction writers is very proud. Whenever we think of changing the society, the name of women fiction writers of every language of Pakistan will definitely come to the fore. She said that our reader has moved towards popular fiction. Which is why our fiction writers have backed down. If we want to revive our literary fiction, we have to stay connected to our land.

Neelam Ahmed Bashar said that this event has covered all aspects and this series should be continued. She suggested that cheap books be printed so that it would be easier for people to buy them so that our literature could promote. She also suggested the establishment of a literary channel under the PAL and the establishment of small libraries in literary and cultural institutions where people could sit and use books.
Hafeez Khan said that the women writers who appeared in our Martial Law taught our women the consciousness and manners of living through their fiction and resistance. He suggested that the grants given by the PAL and the federal and provincial governments to literary institutions should be restricted to publishing a book by at least one female novelist.
Ghafir Shehzad said that we get to see a large number of women fiction writers in literature. If our women also consider the criticism of fiction, they can make a significant contribution to literature.
Dr. Amir Sohail said that women novelists are inferior to men but far ahead in terms of quality. He called for holding weekly meetings on fiction. He said that fiction was being written but it was not being published.
Salma Jilani said that our women are creating a level of fiction that can be compared to any other literature. Women talk about problems very closely. Only women can raise a strong voice against social inequalities.

Musarrat Kalanchvi said that women have got a lot of encouragement from this program and this trend should continue. The academy should organize as many programs as possible for women fiction writers.
Syeda Atiya said that we have various restrictions on writing. The cost of publishing the book is very high. Many women have left drafts in their closets after writing.

The academy should encourage women writers to write so that good literature can emerge.

Dr. Shaista Nuzhat said that literary institutes should organize weekly sessions on fiction as well as poetry so that fiction could become a tradition.

In each session, a novel by a novelist should be presented and discussed.

Shaista Mufti said that women writers from all walks of life are coming forward today, today’s writer is free and he cannot be imprisoned in any ideology.

Afshan Abbasi said that one of the reasons for the decline of Urdu fiction is that many good fiction writers are slowly leaving us. Fiction is being written, but all but a few have not been able to increase the value of fiction.

Shamsa Najam said that without discriminating between men and women, one should consider why the number of fiction writers is low. Fiction is a separate genre and poetry is a separate genre.

Shamim Fazal Khaliq said that the main reason why the canvas of women’s fiction is not very wide is the distance from the book and the lack of readers.

Tahira Iqbal said that literature is an important unit of society. A writer cannot be bound to create literature based on a particular point of view or thought. Literature is individual, not collective.

Dr. Shamim Ansari said that after independence, the writings of women novelists changed. I think the best fiction seems to mourn its status without drama. The mood of the novel is also in tune with the environment.

After this, Aqila Haq (Karachi), Saima Nafees (Peshawar), Hijab Abbasi (Karachi), Gul Arbab (Peshawar) and Farheen Jamal (Belgium) expressed their views in the discussion session.

اردو کے نامور ادیب ، مزاح نگار ،کالم نگار اور سفرنامہ نگار ڈاکٹر ایس ۔ ایم معین قریشی کے انتقال پر چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک کا اظہارِ تعزیت

اسلام آباد(پ ر)۔ڈاکٹر ایس۔ ایم معین قریشی کی اردو ادب کے لیے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ان کے انتقال سے اردو ادب ایک منفرد لہجے کے ادیب سے محروم ہوگیا ہے۔ یہ بات اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک نے اپنے ایک تعزیتی بیان میں کہی۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ایس ۔ ایم معین قریشی نہ صرف اردو بلکہ انگریزی زبان میں بھی بہت مہارت رکھتے تھے۔ ان کے کالم پاکستان کے علاوہ بیرون ممالک میں بھی شائع ہوتے تھے۔ ڈاکٹر یوسف خشک نے کہاکہ ڈاکٹر ایس ۔ایم معین قریشی اعلیٰ پائے کے مزاح نگار بھی تھے ، انہوں نے مزاح نگاری اور سفرناموں پرمشتمل متعدد کتابیں تحریرکیں۔ وہ 27کتابوں کے مصنف تھے جن میں ”اردو زبان و ادب (اردو ادب کی تاریخ )“، ”بقلم خود“، ”اب میں لکھوں کہ نہ لکھوں“، ”ٹیئرز فور چیئرز“اور دیگر کتب شامل ہیں۔ ا نہیں بہترین کالم لکھنے پر اے پی این ایس ایوارڈاورمختلف مواقع پر حکومت سندھ کی طرف سے ان کی ادبی وصحافتی خدمات کے صلے میں کیش ایوارڈ اور گولڈ میڈل سے بھی نوازاگیا۔ وہ آرٹس کونسل آف پاکستان اور پاکستان امریکن کلچرل سنٹرکے ممبر بھی رہے۔ 2003میں ان کی ادبی خدمات کی گولڈن جوبلی منائی گئی۔ پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک، نے مرحوم کے لیے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبرجمیل کی دعا کی۔

Pakistan Academy of Letters, Islamabad

Press Release

Prof. Dr. Yousuf Khushk, Chairman, PAL expressed condolences on the demise of renowned Urdu writer, comedian, columnist and travelogue writer Dr. S. M. Moin Qureshi.

Islamabad (P.R) Dr. S. M. Moin Qureshi’s services to Urdu literature are unforgettable. With his demise, Urdu literature has lost a great writer with a unique accent. This was stated by Prof. Dr. Yousuf Khushk, Chairman, Pakistan Academy of Letters (PAL) in his condolence statement.

He said that Dr. S. M. Moin Qureshi was very proficient not only in Urdu but also in English. Apart from Pakistan, his columns were also published in foreign newspapers and magazines. Dr. Yousuf Khushk said that Dr. SM Moin Qureshi was also a very good comedian.

He has also written several books on comics and travelogues. He was the author of 27 books, including “Urdu Zaban-o-Adab History of Urdu literature”, “Ba Qalam Khudbakhud”, ” Ab main likhkhoon keh

na likhkhoon”, “Tears for Cheers” and other books are important assets for Urdu literature.

He was awarded the APNS Award for best columns writing. He said that the Sindh government awarded him a cash award and a gold medal for his literary services. He was also a member of the Arts Council of Pakistan and the Pakistan American Cultural Center. In 2003, the Golden Jubilee of his literary career was celebrated in which he was awarded a cash prize and a gold medal. Prof. Dr. Yousuf Khushk prayed for forgiveness for the deceased and Patients for the bereaved.

پشتو اور اردو زبان کی مایہ ناز ادیبہ اور شاعرہ زیتون بانواور معروف کالم نگار ، صحافی اور افسانہ نگار طارق اسماعیل ساگر کے انتقال پر چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک کا اظہارِ تعزیت

اسلام آباد(پ ر)۔زیتون بانو پشتو اور اردو زبان کی معروف ادیبہ اور شاعرہ ہیں۔ انھیں ادبی حلقوں میں نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ۔ یہ بات اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک نے اپنے ایک تعزیتی بیان میں کہی ۔انہوں نے کہا کہ زیتون بانو دس سے زائد کتابوں کی خالق ہیں ،جن میں ’برگِ آرزو ، وقت کی دیلیز پر، کچکول ، ھندارہ ،برگد کا سایہ ، مات بنگڑی، زندہ رکھ ، خوبونہ ، ژوندی غمونہ اور منجیلہ‘ شامل ہیں ۔ ادب کے شعبہ میں ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انھیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا ۔ اس کے علاوہ ان کی ایک کتاب کو اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے سال کی بہترین کتاب پر خوشحال خان خٹک ایوارڈ بھی دیا گیا ۔انہوں نے کہاکہ اکادمی ادبیات پاکستان نے معمار ادب سیریز کی کتاب ”زیتون بانو:فن و شخصیت“ بھی شائع کی ہے۔ چیئرمین اکادمی پروفیسرڈاکٹر یوسف خشک اور اکادمی ادبیات پاکستان کے دیگر کارکنوںنے آج پشاور میں ان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی اوراکادمی کی طرف سے اُن کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی گئی۔ چیئرمین اکادمی نے ان کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین اکادمی نے معروف ادیب ، کالم نگار اور افسانہ نگار طارق اسماعیل کے انتقال پربھی گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور کہا کہ طارق اسماعیل ساگر کے انتقال سے اردو ادب ایک اہم لکھنے والے سے محروم ہوگیا ہے۔وہ 72سے زائد کتابوں کے خالق تھے جن میں ’دھویں کی دیوار‘،’اور حسار ٹوٹ گیا‘، ’ریڈ الرٹ‘اور دیگراہم کتابیں شامل ہیں۔ انہوں نے مرحوم طارق اسماعیل ساگر کی مغفرت اورلواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

Pakistan Academy of Letters, Islamabad

Press Release

Prof. Dr. Yousuf Khushk, Chairman PAL, extends condolences on the demise of renowned Pashto and Urdu writer and poetess Zaitoon Bano and renowned columnist, journalist and novelist Tariq Ismail Sagar.

Islamabad(P.R) Zaitoon Bano is a well-known Pashto and Urdu language writer and poetess. she was held in high esteem in literary circles. This was stated by the Prof. Dr. Yousuf Khushk, Chairman Pakistan Academy of Letters (PAL) in a condolence statement.

He said that Zaitoon Bano is the author of more than ten books, including ‘Berg-e-Arzoo, Waqt-Ki-Dehleez-Par, Kachkul, Hindara, Bargad Ka Saaya, Mat Bangari, Zinda Rakh, Khobona, Jhundi Ghamuna and Manjeela’

In recognition of her valuable services in the field of literature, the Government of Pakistan awarded her the Presidential Medal for Excellence. In addition, one of her books was awarded the Khushal Khan Khattak Award for the best book of the year by the PAL.

He said that the PAL has also published the book “Zaitoon Bano: Art and Personality” of the Memar-e-Adab series.

Chairman PAL Prof. Dr. Yousuf Khushk and other Officers of the PAL attended her funeral prayers in Peshawar today and a wreath was laid on her grave by the PAL. The Chairman of the Academy extends his heartfelt condolences to her family members.

Dr. Yousuf Khushk, Chairman,PAL, also expressed deep sorrow over the demise of renowned writer, columnist, novelist and Fiction writer Tariq Ismail Sagar. He said that with the demise of Tariq Ismail Sagar, Urdu literature has lost an important writer.

He authored more than 72 books, including “Dhuwain Ki Dewaar”, “Aur Hassar Toot Gia”,”Red Alert”, and more. He prayed for the forgiveness of the late Tariq Ismail Sagar and patience for his family.

جہانزیب کالج سوات کے طلباءکا اکادمی ادبیات پاکستان کا مطالعاتی دورہ اور چیئرمین اکادمی سے ملاقات

اسلام آباد(پ۔ر) گورنمنٹ جہانزیب کالج ، مینگورہ ، سوات سے بی ایس پشتو کے 25, طلباءکا وفد اکادمی ادبیات پاکستان ، چیئرمین شعبہ پشتو پروفیسر عطاءالرحمن اور پروفیسر احسان یوسفزئی کی سربراہی میں پہنچا۔ پشتو ادبی سوسائٹی اسلام آباد کی نمائندگی اقبال حسین افکار اور سردار یوسف زئی نے کی اور اکادمی ادبیات پاکستان میں ان کا استقبال کیا۔ بعد ازاں اکادمی ادبیات پاکستان کے اسسٹنٹ پی آراو، سعید ساعی ، نصیر آذر ، لائبریری انچارج اور دیگر نے سوات سے مطالعاتی دورے پر آئے ہوئے ریسرچ سکالروں کا پرتپاک خیر مقدم کیا اور ان کو اکادمی کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کرایا۔ بعد میں مہمان اکادمی کے کانفرنس ہال میں تشریف لائے۔اکادمی ادبیات پاکستان کے پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک سے مہمانوں نے ملاقات کی۔انہوں نے اپنا تعارف طلباءسے کرایا اور اکادمی کے بارے میں مفید معلومات شیئر کیں۔ ڈاکٹر یوسف خشک نے کہا کہ نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ آپ دیگر علوم کامطالعہ بھی دل جمعی سے کریں اور ساتھ ، ساتھ مختلف ادبی اصناف میں لکھنے کی سعی کریں۔ آپ نئے موضوعات پر ایک نئے انداز میں لکھ سکتے ہیں۔ یہ ذہن میں نہ لائیے کہ کون کتنا بڑا شاعر، ادیب ہے، ہمارا اس مقام پرپہنچنا مشکل ہے ایسا سوچنا درست نہیں ہے اپنے آپ میں خود اعتمادی پیدا کیجیے اور بہتر سے بہتر لکھنے کی کوشش سے ایک دن آپ کو لوگ اسی طرح پیار و احترام دیں گے جیسے آپ سینئرز کو دیتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک نے طالبعلموں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “مجھے اقبال حسین افکار کے توسط سے آپ کے اساتذہ سے مل کر بہت خوشی ہوئی ہے۔ افکار صاحب ایک متحرک ادبی شخصیت ہیں۔ خدمت کے جذبے سے سرشار ہیں۔ پاکستانی ادب کے فروغ کے لیے دل و جان سے یہ کام کرتے ہیں، ایسے لوگ ہماری سوسائٹی کا اثاثہ ہیں۔ پروفیسر عطا الرحمن ، چیئرمین ، شعبہ پشتو ، جہانزیب کالج ، سوات نے پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک ، چیئرمین ،اکادمی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ موقع ہمارے لیے اورطلباءکے لیے نہایت کارآمد اور مفید ہے ہمیں یقین ہے پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک صاحب کی یہ باتیں آنے والی زندگی میں مشعل راہ ہوں گی۔ پروفیسر عطا الرحمن نے پشتو ادبی سوسائٹی اسلام آباد ،اقبال حسین افکار اور سردار یوسف زئی کا شکریہ ادا کیا۔ وفد میں جہانزیب کالج سیدو سوات ، بی ایس پشتو کے چھٹے سمسٹر کے طلبا شامل تھے۔


گورنمنٹ جہانزیب کالج ، مینگورہ ، سوات سے بی ایس پشتو کے طلباءکے وفدکا دورہ اکادمی ادبیات پاکستان کے موقع پر سردار یوسف زئی، پروفیسر احسان یوسفزئی،چیئرمین اکادمی ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین شعبہ پشتو پروفیسر عطاءالرحمن اور اقبال حسین افکار اسٹیج پر بیٹھے ہیں۔

Pakistan Academy of Letters, Islamabad

Study visits of Jahanzeb College Swat students to Pakistan Academy of Letters (PAL) and meeting with the Chairman of the PAL

Islamabad (P.R) A delegation of 25 students of BS Pashto from Government Jahanzeb College, Mingora, Swat, led by Prof. Ata-ur-Rehman and Prof. Ehsan Yousafzai, Chairman, Department of Pashto Literature, arrived.
The Pashto Literary Society Islamabad was represented by Iqbal Hussain Afkar and Sardar Yousafzai and received them at the PAL.

Later, Assistant PRO of the PAL, Saeed Sai, Naseer Azar, Library Incharge and others warmly welcomed the research scholars who came on a study tour from Swat and took them on a tour of various departments of the Academy.

Later, the guests visited the conference hall of the Academy. The guests called on Prof. Dr. Yousuf Khushk Chairman, PAL. He introduced himself to the students and shared useful information about the Academy.

Dr. Yousuf Khushk said that in addition to Academic activities, you should also study other subjects wholeheartedly and at the same time try to write in different literary genres.

you can write on new topics in a new way. Don’t think about who is the greatest poet, the writer,

It is difficult for us to get to this point, it is not right to think so. Build self-confidence and try to write as best as you can one day people will give you the same love and respect as you give to seniors.

Talking to the students, Prof. Dr. Yousuf Khushk said, “I am very happy to meet you and your teachers through Iqbal Hussain Afkar.

Afkar Sahib is a dynamic literary figure. They work wholeheartedly for the promotion of Pakistani literature. Such people are an asset to our society.

Prof. Ata-ur-Rehman, Chairman, Department of Pashto, Jahanzeb College, Swat, thanked Prof. Dr. Yousuf Khushk, Chairman, PAL and said that this opportunity is very useful for us and the students. We are sure that these words of Prof. Dr. Yousuf Khushk Sahib will be a beacon in the life to come.

Prof. Ata-ur-Rehman thanked Pashto Literary Society Islamabad, Iqbal Hussain Afkar and Sardar Yousafzai.

The delegation included sixth-semester students of Jahanzeb College Saidu Swat, BS Pashto۔

پشتو عالمی حمدیہ و نعتیہ مشاعرے کا انعقاد

اسلام آباد(پ۔ر)اکادمی ادبیا ت پاکستان کے زیر اہتمام رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں آن لائن پشتو عالمی حمدیہ ونعتیہ مشاعرہ منعقد ہوا۔مجلس صدارت میںپروفیسر ڈاکٹر نصیب اللہ سیماب(کوئٹہ)، فیروز آفریدی(قطر)، ثمینہ قادر(پشاور)، اورممتاز اورکزئی(یو اے ای)شامل تھے۔ پروفیسر خلیل باور(کوئٹہ)، گوہر شناس (یو کے)، سیدہ حسینہ گل(مردان)اورلائق زادہ لائق(پشاور) مہمانان خصوصی تھے۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین ، اکادمی ادبیات پاکستان ،نے ابتدائیہ پیش کیا۔ نظامت ڈاکٹر اباسین یوسفزئی نے کی۔ مشاعرے میںملک بھر اور بیرون ملک سے شعراءکرام نے پشتو میں حمدیہ و نعتیہ کلام پیش کیا۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین، اکادمی نے ابتدائیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پشتو ادب میں حمد گوئی کی روایت قدیم زمانے سے موجود ہے ۔ بعد میں کلاسیکی شعراءنے اپنے دواوین میں حمدیہ کلام کو شامل کر کے اس روایت کی پاسداری کی۔ 300ہجری میں بیٹ نیکہ پشتو کا قدیم شاعر تھا جس نے بہترین حمد لکھی۔ انہوں نے کہاکہ اس کے بعد روشنیہ تحریک کے روح رواں بایذید انصاری کے پیروکاروں جس میں ارزانی خویشکی، مرزا خان انصاری ، دولت موہانی ، واصل اور علی محمد مخلص نے حمد و نعت گوئی اور صوفیانی شاعری کی روایت کو استحکام بخشا۔ ان کے ہاں دواوین میں حمد گوئی اور وحدت الوجود کے نظریے کی تشریح و توضیح کے نمونے ملتے ہیں۔ خوشحال خان خٹک نے بھی شاعر ی میں حمد گوئی کی روایت کو برقرار رکھا۔ ان کے خاندان سے منسلک شعراءعبد القادر خان، اشرف خان اور کاظم خان شیدا و دیگر نے حمدو نعت گوئی کو فروغ دینے میں نمایاں کردار اداکیا۔ رحمن بابا بنیادی طور پر شاعر انسانیت اور صوفی شاعر تھے۔ انہوں نے تصوف اور مذہبی شاعری کو بھر پور توجہ دی ، ان کی شاعری میں حمد کے بہترین نمونے شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ رحمن بابا کے ہم عصر دیگر کلاسیکی شعراءنے بھی حمد ونعت کو خصوصی توجہ دی ۔ 20ویں صدی میں پشتو کی حمدیہ و نعتیہ شاعری نے صحیح معنوں میں ترقی کی منزلیں طے کیں۔ اس دور میں الگ سے حمدیہ و نعتیہ کلام کے مجموعے شائع ہوے اور متفر ق شعری مجموعوں میں بھی حمدیہ و نعتیہ کلام شامل ہے۔چیئرمین اکادمی نے کہا کہ میں تمام معزز شعراءکا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ کوڈ19کی پریشان کن صورتحال کے باوجود پشتوعالمی حمدیہ و نعتیہ مشاعرے میں شریک ہوئے ۔ مشاعرے میں کلثوم زیب (پشاور)، محمدحنیف قیس (سوات)، عزیز مانیروال (صوابی )، ڈاکٹر شاہدہ سردار(پشاور)، اقبال حسین افکار (اسلام آباد)، ڈاکٹر علی خیل دریاب(مالا کنڈ)، سید صابر شاہ صابر(پشاور )، پروفیسر عطاءالرحمان عطاء(شانگلہ )، ڈاکٹر طارق دانش (بنوں )، پروفیسر اقبال شاکر (مالاکنڈ)، پروفیسر نواز یوسفزئی (بونیر)، رضوان اللہ شمال (دیر پایاں)، پروفیسر رفیق یوسفزئی (کے ایس اے )اور دیگر نے پشتو زبان میں حمدیہ و نعتیہ کلا م پیش کیا۔

آن لائن پشتو عالمی حمدیہ و نعتیہ مشاعرے کے شرکا

Pakistan Academy of Letters, Islamabad

Press Release

Islamabad (P.R) In the Holy month of Ramadan-ul-Mubarak, an online Pashto International Hamdiya and Naatiya Mushaira was organized by the Pakistan Academy of Letters (PAL. The Presidium consisted of Prof. Dr. Naseebullah Simab (Quetta), Feroz Afridi (Qatar), Samina Qadir (Peshawar), and Mumtaz Orakzai (UAE). Prof. Khalil Bawar (Quetta), Gohar Shinas (UK), Syeda Hasina Gul (Mardan) and Laiqzada Laiq (Peshawar) were the chief guests. Dr. Yousuf Khushk, Chairman, PAL, gave the introductory speech. Dr. Abasin Yousafzai was the moderator. Poets from all over the country and abroad presented Hamdiya and Naatiya poetry in Pashto.

Dr. Yousuf Khushk, Chairman, PAL, in his introductory remarks, said that the tradition of Hamdiya poetry has existed in Pashto literature since ancient times. Later, classical poets followed this tradition by incorporating Hamds in their poems. In 300 AH, Bait Naika was an ancient Pashto poet who wrote the best hymns. He said that after that the followers of Bayazid Ansari, the Roshania movement including Arzani Khushki, Mirza Khan Ansari, Daulat Mohani, Wasil and Ali Muhammad Mukhlis strengthened the tradition of praise and Naat recitation and Sufi poetry. In his Dawavain, there are examples of praising and interpreting the view of Wahdat-ul-Wujud.

He further said that Khushal Khan Khattak also maintained the tradition of Hamdiya poetry. Poets like Abdul Qadir Khan, Ashraf Khan, Kazim Khan Sheida and others associated with his family played a significant role in promoting Hamdiya & Naatiya recitation.

Chairman PAL, said that other classical poets of Rehman Baba’s time also paid special attention to Hamd &Naat. In the 20th century, Pashto Hamdiya and Naatiya poetry have truly reached the stage of development. Separate collections of Hamdiya and Naatiya poetry were published during this period, and various collections of poetry also include Hamdiya & Naatiya poetry.

Dr. Yousuf Khushk, Chairman, PAL said that I thank all the esteemed poets for participating in the Pashto International Hamdiya and Naatiya Mushaira despite the disturbing situation of Covid19.

Kulsoom Zeb (Peshawar), Mohammad Hanif Qais (Swat), Aziz Manirwal (Swabi), Dr. Shahida Sardar (Peshawar), Iqbal Hussain Afkar (Islamabad), Dr. Ali Khel Daryab (Malakand), Syed Sabir Shah Sabir (Peshawar), Prof. Ata-ur-Rehman Ata (Shangla), Dr. Tariq Danish (Bannu), Prof. Iqbal Shakir (Malakand), Prof. Nawaz Yousafzai (Buner), Rizwanullah Shamal (Deerpayan), Prof. Rafiq Yousafzai (KSA) and others presented Hamdiya and Naatiya poetry in Pashto language.

سرائیکی حمدیہ و نعتیہ مشاعرے کا انعقاد


اکادمی ادبیا ت پاکستان کے زیر اہتمام رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں آن لائن سرائیکی حمدیہ ونعتیہ مشاعرہ منعقد ہوا۔ صدارت ڈاکٹرقاضی عابد(ملتان ) نے کی۔ کوثر ثمرین (ملتان )مہمان خصوصی تھیں۔ شاکر شجاع آبادی (ملتان) مہمان اعزازتھے۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین ، اکادمی ادبیات پاکستان نے ابتدائیہ پیش کیا۔ نظامت ڈاکٹر سعدیہ کمال نے کی۔ مشاعرے میں ملک بھر سے شعراءکرام نے سرائیکی میں حمدیہ و نعتیہ کلام پیش کیا۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین اکادمی نے ابتدائیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سرائیکی کی جتنی پرانی کہانیاں اور لو ک قصے ہیں سب کے آغاز میں دعا کی روایت ملتی ہے۔ حضر ت سچل سرمست ، حمل خان لغاری جیسے شعراءکے ہاں سرائیکی کلام میں جدید نعت کے خدوخال دکھائی دیتے ہیں۔ خیر شاہ تونسوی، امام دین ہزاروی، فیض مشہدی اور فقیر محمد عار ف سے ہوتے ہوئے خلیفہ یار محمد ملتانی ، غلام قادر ملتانی، منشی محمد بخش، فائق ملتانی، منشی محمد رمضان تک سرائیکی نعت کا سفر کسی نہ کسی شکل میں جاری رہا ۔ اس دوران سرائیکی شاعرات بھی کسی سے پیچھے نہیں رہیں۔ اس سلسلے میں جیون خاتون کی نعتیہ شاعری بہترین مثال ہے۔ حضر ت خواجہ غلام فرید کی حضور کی یاد اور مدح میں لکھی گئی کافیاں بھی سرائیکی نعتیہ ادب کا حصہ ہیں۔ مولانا نور احمد فرید آبادی کے علاوہ محمد یار بلبل فریدی کی شاعری سرائیکی نعت نگاری میں ایک زریں دور کی نشاندہی کرتی ہے ۔ اسی طرح محمد رمضان طالب ، محمد مصطفی اور میاں مشتاق نے بے مثال نعتیں لکھیں۔ انہوں نے کہا کہ انیسویں صدی میں خواجہ غلام فرید نے سرائیکی زبان میں اللہ کی وحدانیت اور حضور کی پیروی جیسے آفاقی پیغام کو اپنی شاعری کے ذریعے لوگوں تک پہنچایا۔ اُن کی شاعری ، محبت ، امن اور رواداری کا درس دیتی ہے ۔ سرائیکی زبان کی اس روایت کو بعد کے جدید شعراءنے مزید انفرادیت اور وسعت دی ۔ سرائیکی شعر و ادب بھی مذہبی عقائدو رجحانات کے زیر اثر رہا ہے۔ چیئرمین اکادمی نے کہا کہ سرائیکی شاعری میں حمد و نعت گوی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ سرائیکی زبان نعت نگاری کے قیمتی سرمائے سے بھری پڑی ہے۔ میں تمام شعراءکا ممنوں ہوں کہ کوڈ19کے مشکل حالات کے باوجود وہ اس حمدیہ و نعتیہ مشاعرے میں شریک ہوئے ۔ مشاعرے میں وفا چشتی (اسلام آباد)،امان اللہ ارشد(رحیم یار خان)،محمد ساجد درانی قادری(احمد پور شرقیہ)،سعید ثروت(رحیم یار خان)،رضوانہ تبسم درانی (ملتان)،خورشید ربانی (ڈیرہ اسماعیل خان)،غیور بخاری(بہاول پور)، منظور سیال (مظفر گڑھ)،عمران میر(ڈیرہ غازی خان) ، حنا اقبال اور دیگر نے سرائیکی زبان میں حمدیہ و نعتیہ کلا م پیش کیا۔

Pakistan Academy of Letters, Islamabad

Press Release

Islamabad: In the Holy month of Ramadan-ul-Mubarak, an online Seraiki Hamdiya and Naatiya Mushaira was organized by the Pakistan Academy of Letters (PAL). Mushaira presided over by Dr. Qazi Abid (Multan). Kausar Samreen (Multan) was chief guest while Shakir Shujaabadi (Multan) was the guest of honor. Dr. Yousuf Khushk, Chairman, PAL gave the introductory speech. Dr. Sadia Kamal was the moderator. Poets from all over the country recited Hamdiya & Naatiya poetry in Seraiki. Dr. Yousuf Khushk, Chairman, PAL, while giving the introductory speech, said that there is a tradition of prayer at the beginning of all the old stories and folk tales of Seraiki. Poets like Hazrat Sachal Sarmast, Hamal Khan Leghari have the features of modern Naat in Seraiki Literature. The journey of Seraiki Naat continued in one form or another through Khair Shah Tunsui, Imam Din Hazarawi, Faiz Mashhadi and Faqir Muhammad Arif to Khalifa Yar Muhammad Multani, Ghulam Qadir Multani, Munshi Muhammad Bakhsh, Faiq Multani, Munshi Muhammad Ramzan. During this time, Seraiki poetess did not lag behind anyone.

The Naatiya poetry of Jeevan Khatun is the best example in this regard. Kafian written in memory and praise of Hazrat Muhammad(PBUH) by Hazrat Khawaja Ghulam Farid are also a part of Seraiki Naatiya literature Apart from Maulana Noor Ahmad Faridabadi, the poetry of Muhammad Yar Bulbul Faridi marks a golden age in Seraiki Naat writing. Similarly, Muhammad Ramzan Talib, Muhammad Mustafa and Mian Mushtaq wrote unparalleled Naats.
Chairman PAL, Dr. Yousuf Khushk said that in the nineteenth century, Khawaja Ghulam Farid conveyed to the people the universal message in the Seraiki language, such as the oneness of God and following the Holy Prophet (PBUH), through his poetry. His poetry teaches love, peace and tolerance. This tradition of the Seraiki language was further enhanced by the later modern poets. Seraiki’s poetry and literature have also been influenced by religious beliefs and trends. Chairman PAL said that Hamad and Naat’s recitation is of special importance in Seraiki poetry. The Seraiki language is full of valuable Naat writings. I am thankful to all the poets that despite the difficult circumstances of Covid-19, they participated in this Hamdiya & Naatiya Mushaira.

Participants of Mushaira included Wafa Chishti (Islamabad), Amanullah Arshad (Rahim Yar Khan), Muhammad Sajid Durrani Qadri (Ahmadpur Sharqiya), Saeed Tharwat (Rahim Yar Khan), Rizwana Tabassum Durrani (Multan), Khurshid Rabbani (Dera Ismail Khan), Ghayyur Bukhari (Bahawalpur), Manzoor Sial (Muzaffargarh), Imran Mir (Dera Ghazi Khan),Hina Iqbal and others presented Hamdiya and Naatiya poetry in the Seraiki language.

پاکستان کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ ”کمالِ فن ایوارڈ 2019“ اور ” قومی ادبی ایوارڈز2019“ کا اعلان

اسلام آباد(پ۔ر)اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ملک کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ ”کمالِ فن ایوارڈ 2019“ کا اعلان مورخہ25مارچ 2021 بروزجمعرات ، بوقت 1:30بجے دن ،اکادمی ادبیات پاکستان کے دفتر،واقع پطرس بخاری روڈ، سیکٹر ایچ ایٹ ون ، اسلام آباد میں کیا جائے گا۔ کمالِ فن ایوارڈ اور قومی ادبی ایوارڈز ادب کے لیے ملک کے اہم ترین ایوارڈزمیں شمار کیے جاتے ہیں۔ ”کمالِ فن ایوارڈ“کسی بھی لکھاری کی زندگی بھر کی ادبی خدمات پر پیش کیا جاتا ہے۔ کمال فن ایوارڈ کے ساتھ مبلغ 1,000,000 (دس لاکھ )روپے کی خطیر رقم بھی ییش کی جاتی ہے۔ ایوارڈز کا اعلان پاکستان کے معتبرو مستند اہلِ دانش پر مشتمل منصفین کے فیصلے کے بعد کیا جاتا ہے ۔ اس موقع پرسال 2019کے ” قومی ادبی اےوارڈز“ کا اعلان بھی کیا جائے گا جس میں سال 2019میں شائع ہونے والی بہترین ادبی کتب پر اردو شاعری کے لیے ” ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ایوارڈ“، اردوتحقیقی و تنقیدی ادب کے لیے”بابائے اردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق ایوارڈ“، اردوتخلیقی ادب کے لیے”سعادت حسن منٹو ایوارڈ“،سندھی شاعری کے لیے”شاہ عبد اللطیف بھٹائی ایوارڈ“،سندھی نثر کے لیے”مرزا قلیچ بیگ ایوارڈ“،پشتو شاعری کے لیے ”خوشحال خان خٹک ایوارڈ“،پشتونثر کے لیے ”محمد اجمل خان خٹک ایوارڈ“، پنجابی شاعری کے لیے ”سید وارث شاہ ایوارڈ“، پنجابی نثر کے لیے ”افضل احسن رندھاوا ایوارڈ“،بلوچی شاعری کے لیے ”مست توکلی ایوارڈ“،بلوچی نثر کے لیے ”سید ظہور شاہ ہاشمی ایوارڈ“،سرائیکی شاعری کے لیے ”خواجہ غلام فرید ایوارڈ“،سرائیکی نثر کے لیے ”ڈاکٹر مہر عبد الحق ایوارڈ“، براہوئی شاعری کے لیے ”تاج محمدتاجل ایوارڈ“ ،براہوئی نثر کے لیے ”غلام نبی راہی ایوارڈ“،ہندکوشاعری کے لیے ”سائیں احمد علی ایوارڈ“،ہندکونثر کے لیے ”خاطر غزنوی ایوارڈ“، انگریزی شاعری کے لیے”داود کمال ایوارڈ“ اورانگریزی نثر کے لیے”پطرس بخاری ایوارڈ“کے علاوہ بہترین ترجمہ کی کتاب پر ”محمد حسن عسکری ایوارڈ“کا اعلان بھی کیاجائے گا۔ ان تمام ایوارڈز کے ساتھ مبلغ200,000 (دو لاکھ) روپے فی ایوارڈپیش کیے جاتے ہیں۔


Pakistan Academy of Letters,
Islamabad.

Press Release
Pakistan’s Top most literary award “Kamal-e-Fan Award 2019” and “National Literary Awards 2019” will be announced.

Islamabad (P.R) The Pakistan Academy of Letters (PAL) will announce the Top literary award “Life Time Achievement Award-2019” of the country on 25th March 2021, Thursday at 1:30 Pm in the conference hall of PAL, Pitras Bukhari Road, H-8/1, Islamabad.

“Life Time Achievement Award” and “National Literary Awards” are the most important awards of the country on literary services and books. “Life Time Achievement Award” is conferred upon for the lifelong literary services of a writer. The reward with this award is Rs. 1,000,000/- This award will be decided by a panel of the eminent and respectful writers & intellectuals throughout the country.

On this occasion, the “National Literary Awards for 2019” will also, be announced on the best books published during the year 2019. For Urdu Poetry “Dr.Allama Muhammad Iqbal Award”, For Urdu Research & Critic Literature “ Baba-i-Urdu Dr. Molvi Abdul Haq Award”, For Urdu Creative Literature “Saadat Hassan Manto Award”, For Sindhi Poetry “Shah Abdul Latif Bhittai Award”, For Sindhi Prose “Mirza Qaleech Baig Award”, For Pashto Poetry “Khushall Khan Khattak Award”, For Pashto Prose “Muhammad Ajmal Khan Khattak Award”, For Punjabi Poetry “Syed Waris Shah Award”, For Punjabi Prose “Afzal Ahsan Randhawa Award”, For Balochi Poetry “Mast Tawakali Award”, For Balochi Prose “Syed Zahoor Shah Hashmi Award ”, For Seraiki Poetry “Khawaja Ghulam Farid Award”, For Seraiki Prose “Dr. Mehar Abdul Haq Award”, For Brahvi Poetry “Taj Muhammad Tajal Award”, For Brahvi Prose “Ghulam Nabi Rahi Award”, For Hindko Poetry “Saieen Ahmed Ali Award”, For Hindko Prose “Khatir Ghazanvi Award”, For English Poetry “Daud Kamal Award”, For English Prose “Pitras Bukhari Award” and For best translation works “Muhammad Hassan Askari Award” will be announced. The amount of this award is Rs. 200,000/-each award.

پاکستان کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ ”کمالِ فن ایوارڈ 2019“ اور ” قومی ادبی ایوارڈز2019“ کا اعلان

اسلام آباد(پ۔ر)اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ملک کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ ”کمالِ فن ایوارڈ 2019“ کا اعلان آج مورخہ25مارچ 2021 بروزجمعرات ، بوقت 1:30بجے دن ،اکادمی ادبیات پاکستان کے دفتر،واقع پطرس بخاری روڈ، سیکٹر ایچ ایٹ ون ، اسلام آباد میں کیا جائے گا۔ کمالِ فن ایوارڈ اور قومی ادبی ایوارڈز ادب کے لیے ملک کے اہم ترین ایوارڈزمیں شمار کیے جاتے ہیں۔ ”کمالِ فن ایوارڈ“کسی بھی لکھاری کی زندگی بھر کی ادبی خدمات پر پیش کیا جاتا ہے۔ کمال فن ایوارڈ کے ساتھ مبلغ 1,000,000 (دس لاکھ )روپے کی خطیر رقم بھی ییش کی جاتی ہے۔ ایوارڈز کا اعلان پاکستان کے معتبرو مستند اہلِ دانش پر مشتمل منصفین کے فیصلے کے بعد کیا جاتا ہے ۔ اس موقع پرسال 2019کے ” قومی ادبی اےوارڈز“ کا اعلان بھی کیا جائے گا جس میں سال 2019میں شائع ہونے والی بہترین ادبی کتب پر اردو شاعری کے لیے ” ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ایوارڈ“، اردوتحقیقی و تنقیدی ادب کے لیے”بابائے اردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق ایوارڈ“، اردوتخلیقی ادب کے لیے”سعادت حسن منٹو ایوارڈ“،سندھی شاعری کے لیے”شاہ عبد اللطیف بھٹائی ایوارڈ“،سندھی نثر کے لیے”مرزا قلیچ بیگ ایوارڈ“،پشتو شاعری کے لیے ”خوشحال خان خٹک ایوارڈ“،پشتونثر کے لیے ”محمد اجمل خان خٹک ایوارڈ“، پنجابی شاعری کے لیے ”سید وارث شاہ ایوارڈ“، پنجابی نثر کے لیے ”افضل احسن رندھاوا ایوارڈ“،بلوچی شاعری کے لیے ”مست توکلی ایوارڈ“،بلوچی نثر کے لیے ”سید ظہور شاہ ہاشمی ایوارڈ“،سرائیکی شاعری کے لیے ”خواجہ غلام فرید ایوارڈ“،سرائیکی نثر کے لیے ”ڈاکٹر مہر عبد الحق ایوارڈ“، براہوئی شاعری کے لیے ”تاج محمدتاجل ایوارڈ“ ،براہوئی نثر کے لیے ”غلام نبی راہی ایوارڈ“،ہندکوشاعری کے لیے ”سائیں احمد علی ایوارڈ“،ہندکونثر کے لیے ”خاطر غزنوی ایوارڈ“، انگریزی شاعری کے لیے”داود کمال ایوارڈ“ اورانگریزی نثر کے لیے”پطرس بخاری ایوارڈ“کے علاوہ بہترین ترجمہ کی کتاب پر ”محمد حسن عسکری ایوارڈ“کا اعلان بھی کیاجائے گا۔ ان تمام ایوارڈز کے ساتھ مبلغ200,000 (دو لاکھ) روپے فی ایوارڈپیش کیے جاتے ہیں۔


Pakistan’s Top most literary award “Kamal-e-Fan Award 2019” and “National Literary Awards 2019” will be announced today.

Islamabad (P.R) The Pakistan Academy of Letters (PAL) will announce the Top literary award “Life Time Achievement Award-2019” of the country today (25th March 2021, Thursday at 1:30 Pm) in the conference hall of PAL, Pitras Bukhari Road, H-8/1, Islamabad.

“Life Time Achievement Award” and “National Literary Awards” are the most important awards of the country on literary services and books. “Life Time Achievement Award” is conferred upon for the lifelong literary services of writer. The reward with this award is Rs. 1,000,000/- This award will be decided by a panel of the eminent and respectful writers & intellectuals throughout the country.

At this occasion the “National Literary Awards for 2019” will also be announced on the best books published during the year 2019. For Urdu Poetry “Dr.Allama Muhammad Iqbal Award”, For Urdu Research & Critic Literature “ Baba-i-Urdu Dr. Molvi Abdul Haq Award”, For Urdu Creative Literature “Saadat Hassan Manto Award”, For Sindhi Poetry “Shah Abdul Latif Bhittai Award”, For Sindhi Prose “Mirza Qaleech Baig Award”, For Pashto Poetry “Khushall Khan Khattak Award”, For Pashto Prose “Muhammad Ajmal Khan Khattak Award”, For Pubjabi Poetry “Syed Waris Shah Award”, For Punjabi Prose “Afzal Ahsan Randhawa Award”, For Balochi Poetry “Mast Tawakali Award”, For Balochi Prose “Syed Zahoor Shah Hashmi Award ”, For Seraiki Poetry “Khawaja Ghulam Farid Award”, For Seraiki Prose “Dr. Mehar Abdul Haq Award”, For Brahvi Poetry “Taj Muhammad Tajal Award”, For Brahvi Prose “Ghulam Nabi Rahi Award”, For Hindko Poetry “Saieen Ahmed Ali Award”, For Hindko Prose “Khatir Ghazanvi Award”, For English Poetry “Daud Kamal Award”, For English Prose “Pitras Bukhari Award” and For best translation works “Muhammad Hassan Askari Award” will be announced. The amount of this award is Rs. 200,000/-each award.

کمالِ فن ایوارڈ 2019 اور قومی ادبی ایوارڈز 2019

اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ادباءوشعراءکے لئے پچاس لاکھ روپے مالیت کےادبی انعامات کا اعلان

شفقت محمود، وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور قومی ورثہ و ثقافت کی طرف سے ایوارڈ یافتہ اہل قلم کو مبارکباد

اسلام آباد (پ۔ر)اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ممتاز اہل قلم کی ادبی خدمات کے اعتراف میں کمال فن ایوارڈ2019ءکے لئےاسد محمد خاں کو منتخب کیا گیا ہے ۔اس کا اعلان ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان نے ایوارڈ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کیا۔ کمال فن ایوارڈملک کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہے ۔جس کی رقم 1,000,000/-( دس لاکھ روپے)ہے۔ اس کے ساتھ 40لاکھ روپے کے مختلف زبانوں کے تخلیق کاروں ا ور محققین کے لیے20انعامات کا اعلان بھی اکادمی کی جانب سے کیا گیا۔ وفاقی وزیر شفقت محمود کی جانب سے ایوارڈ حاصل کرنے والوں کو مبارکباد پیش کی گئی۔ 2019کے ”کمال فن ایوارڈ “ کا فیصلہ پاکستان کے معتبر اور مستند اہل دانش پر مشتمل منصفین کے پینل نے کیا جس میں کشور ناہید، پروفیسر ڈاکٹر نذیر تبسم ، پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی، اصغر ندیم سید ،، محمد اظہار الحق، ایاز امیر، جمیل احمد پال،ڈاکٹر روف پاریکھ، وسعت اللہ خان، حفیظ خان، ڈاکٹر فاطمہ حسن،پرفیسر ڈاکٹر نبیلہ رحمان، مدد علی سندھی، ڈاکٹرادل سومرو، محمد ایوب بلوچ، عبدالقیوم سوسن براہوئی،ڈاکٹر نصراللہ جان وزیر، محمد حسن حسرت اور حارث خلیق شامل تھے۔اجلاس کی صدارت کشور ناہید نے کی ۔ ”کمال فن ایوارڈ “ ہر سال کسی بھی ایک پاکستانی اہل قلم کوان کی زندگی بھر کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر دیا جاتا ہے۔یہ ایوارڈ ملک کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہے ۔جس کا اجراءاکادمی ادبیات پاکستان نے 1997ءمیں کیا تھا۔ وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، شفقت محمود نے اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے پچاس لاکھ روپے مالیت کے “کمالِ فن ایوارڈ 2019 ” اور20″قومی ادبی ایوارڈ ز”2019 حاصل کر نے والے اہل قلم کو مبارک باد کے پیغام میں کہا ہے کہ ادبی انعامات و اعزازات حکومت کی طرف سے اہل قلم کی ادبی کاوشوں کا معمولی اعترا ف ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت پاکستانی ادب و ثقافت کے فروغ اور اسے عالمی سطح پر روشناس کرانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کررہی ہے اورتمام پاکستانی زبانوں میں لکھے گئے ادب کی ترویج حکومت کی اولین ذمہ داریوں میں شامل ہے کیونکہ قوموں کی ترقی کا معیار اُن کے ادب کے اعلیٰ معیار اور اہل قلم کی سماجی حیثیت سے ماپا جاتا ہے۔ وفاقی وزیر نے چیئرمین ، اکادمی ادبیات پاکستان، ڈاکٹر یوسف خشک کی جانب سے اکادمی کو مستقل متحرک رکھنے کی کوششوں کو سراہا اورکہا کہ ان کی آمدسے اکادمی پہلے کی نسبت زیادہ فعال ہوگئی ہے اور مختلف پاکستانی زبانوں کے ادب کے فروغ کے لیے کی جانے والی کاوشوں میں خصوصی طور پر اضافہ ہوا ہے ۔ اس موقع پر’ ’قومی ادبی ایوارڈ“ برائے سال2019ءکا اعلان بھی کیاگیا۔چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر یوسف خشک نے پریس کانفرنس میں قومی ادبی ایوارڈز کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اردو نثر( تخلیقی ادب) کے لئے سعادت حسن منٹو ایوارڈطاہرہ اقبال کی کتاب ”گراں“، اردو نثر(تحقیقی وتنقیدی ادب) کے لئے بابائے اردو مولوی عبدالحق ایوارڈ میاں محمد افضل کی کتاب ” میر کارواں“، اردو شاعری کے لئے ”ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ایوارڈ“ ابرار احمد کی کتاب ”موہوم کی مہک “،پنجابی شاعری کے لئے ”سید وارث شاہ ایوارڈ“تجمل کلیم کی کتاب ’’لے دس‘‘، پنجابی نثر کے لیے ’’افضل احسن رندھاوا ایوارڈ‘‘ شاہد شیدائی کی کتاب ’’پہلی نیندر مگروں‘‘سندھی شاعری کے لیے ’’شاہ عبد اللطیف بھٹائی ایوارڈ‘‘ اشفاق آذر کی کتاب ’’ عشق جن کو سگھڑ آھے ‘‘ ، سندھی نثر کے لیے ’’مرز ا قلیچ بیگ ایوارڈ‘‘ ڈاکٹر ادل سومرو کی کتاب سندھی ادبی سنگت ؛ ھک تحریک ‘‘ اور رسول میمن کی کتاب ’’ اکھ چھنبھ ‘‘ ، پشتو شاعر ی کے لیے ’’خوشحا ل خان خٹک ایوارڈ‘‘ عصمت درانی کی کتاب مرغہء آلوزی غا خہ ‘‘، پشتو نثر کے لیے ’’محمد اجمل خان خٹک ایوارڈ‘‘ ڈاکٹر محمد ہمایوں ہما کی کتاب ’’ دجوندون دغہ قیصہ دے‘‘، بلوچی شاعری کے لیے ’’مست توکلی ایوارڈ‘‘ سعید تبسم مزاری کی کتاب بیاتئی دستاں رژاں ‘‘، بلوچی نثر کے لیے ’’سید ظہور شاہ ہاشمی ایوارڈ‘‘ ڈاکٹر غفور شاد کی کتاب ’’ بلوچی زبان ء بنزہ ءنبشتہ رہبند‘‘ ، سرائیکی شاعری کے لیے ’’خواجہ غلام فرید ایوارڈ‘‘ نادر لاشاری کی کتاب ’’گودڑی ‘‘، سرائیکی نثر کے لیے ’’ڈاکٹر مہر عبد الحق ایوارڈ‘‘عبد الباسط کی کتاب ’’بندہ بھاہ ہواتے پانی‘‘ ، براہوی شاعری کے لیے ’’تاج محمد تاجل ایوارڈ‘‘ عارف ضیا کی کتاب ’’گندار نا سیخا‘‘، براہوی نثر کے لیے ’’غلام نبی راہی ایوارڈ‘‘ افضل مینگل کی کتاب ’’ مو ر پھکی‘‘ ، ہندکو شاعری کے لیے ’’سائیں احمد علی ایوارڈ‘‘ محمد حنیف کی کتاب ’’انگار‘‘، انگریزی نثر کے لئے پطرس بخاری ایوارڈ ایم ایچ نقوی کی کتاب “The Selected works of Abdullah The Cossack” “The Squeezed Emotions”انگریزی شاعری کے لئے داود کمال ایوارڈ آمنہ شاہد کی کتاب

ترجمے کے لئے ”محمد حسن عسکری ایوارڈ“نجم الدین احمد کی کتاب ”فسانہ عالم“ کو دیا گیا۔قومی ادبی انعام حاصل کرنے والی ہر کتاب کے مصنف کو دودولاکھ روپے بطور انعامی رقم دیے جائیں گے۔

PAKISTAN ACADEMY OF LETTERS

ISLAMABAD

PRESS RELEASE

PAL announced Rs. 5 Million’s Literary Awards

For Pakistani Writers’ and Poets

Congratulations to the award-winning writers from Shafqat Mahmood, Federal Minister for Education and Professional Training and National Heritage and Culture Division.

(Islamabad P R) The Pakistan Academy of Letters (PAL) has announced Kamal-e-Fun Award for the years 2019. Prominent renowned writer Asad Muhammad Khan has been awarded for the Kamal-e-Fun Award 2019.

This was announced by Dr. Yousuf Khushk, Chairman, PAL in a press conference after the award committee meeting.

Kamal-e-Fun Award is the highest literary award in the field of literature for recognition of lifetime’s achievement in creative and research work. The amount of this award is Rs. 1,000,000/- In addition, 20 prizes of Rs. 4 million for creators and researchers of different languages were also announced by the PAL.

Federal Minister Shafqat Mahmood congratulated the recipients of the award.

The panel of judges consisted on well-known writers and scholars; Kishwar Naheed, Prof. Dr. Peerzada Qasim Raza Siddiqui, Dr. Rauf Parekh, Prof. Dr. Nazeer Tabassum, Asghar Nadeem Syed, Ayaz Amir, Jameel Ahmad Paal, Muhammad Izhar ul Haq, Hafeez Khan, Dr. Fatima Hasan, Wusat Ullah Khan, Madad Ali Sindhi, Dr. Adal Soomro, Prof. Dr. Nabeela Rahman, Dr. Nasrullah Jan Wazir, Muhammad Ayub Baloch, Abdul Qayoom Sosan, Muhammad Hasan Hasrat and Haris Khalique met here today on March 25, 2021 in the office of Pakistan Academy of Letters, Islamabad. Kishwar Naheed presided over the meeting.

Federal Minister for Education and Professional Training and National Heritage and Culture Division Shafqat Mahmood in his congratulatory message to the recipients of worth Rs. 5 million “Kamal-e-Fun Award 2019” and 20 “National Literary Awards 2019” from PAL said that the literary awards and honors are a small recognition of the literary efforts of the writers by the government. He said that the present government was taking all possible steps to promote Pakistani literature and culture and make it popular globally and in all Pakistani languages. Promoting written literature is the first responsibility of the government because the standard of development of nations is measured by the high quality of their literature and the social status of their authors. The Federal Minister appreciated the efforts of the Chairman, PAL, Dr. Yousuf Khushk to keep the PAL active and said that with his arrival various academies have become more active than ever for the promotion of literature in different Pakistani languages۔

Dr. Yousuf Khushk, Chairman, PAL has also announced the National Literary Award for the year 2019, given on the best literary books written during the year in Urdu and other Pakistani languages in a Press Conference.

According to the decision of the panel, for Urdu Prose (Creative Literature) Saadat Hasan Manto Award is given to Tahira Iqbal on her Book “Giran”, for Urdu Prose (Criticism & Research) Baba-i-Urdu Molvi Abdul Haq Award is given to Mian Muhammad Afzal on his book “Mir-e-Karwan”, for Urdu Poetry, Dr. Allama Muhammad Iqbal Award is given to Abrar Ahmad on his “Mohom Kee Mahek ”, for Punjabi Poetry Syed Waris Shah Award is given to Tajamul Kaleem on his book “le Das”, for Punjabi Prose Afzal Ahsan Randhawa Award is given to Shahid Shedai on his book Paheli Neendar Magroon, for Sindhi Poetry Shah Abdul Latif Bhitai Award is given to Ashfaq Azar on his book “Isheq Jan Ko Sughar Aahe” for Sindhi Prose Mirza Qaleech Baig Award is given to Dr. Adal Soomro on his book “Sindhi Adabi Sangat: Hik Tahreek” and Rasool Memon on his book “Akh Chhinbh”, for Pushto Poetry Khushhal Khan Khattak Award is given to Asmat Durrani on his book “Margha Aaloozi la Gha Kha”, for Pushto Prose Muhammad Ajmal Khan Khattak Award is given to Dr. Muhammad Humayoon Huma on his book “Da Zondan Da Qisa De”, for Balochi Poetry Mast Tawakli Award is given to Saeed Tabassum Mazari on his book “Bayataee Dastan Razan” for Balochi Prose Syed Zahoor Shah Hashmi Award is given to Dr. Ghafoor Shad on his book “Balochi Zaban Bunza u Nebashta Rahband”, for Seraiki Poetry Khwaja Ghulam Fareed Award is given to Nadar Lashari on his book “Godrri” for Seraiki Prose Dr. Maher Abdul Haq Award is given to Abdul Basit Bhatti on his book “Banda Bhah Hawa Te Pani” for Brahui Poetry Taj Muhammad Tajal Award is given to Arif Zia on his book “Gindarna Seekha” for Brahui Prose Ghulam Nabi Rahi Award is given to Afzal Mengal on his book “Phaki”, for Hindko Poetry Saeen Ahmad Ali Award is given to Muhammad Hanif on his book “Angar”, for English Prose Pitras Bukhari Award is given to M.H Naqvi on his book “The Selected Works of Abdullah The Cossack” , for English Poetry Daud Kamal Award is given to Aamnah Shahid on her Book “The Sequeezed Emotions” for Translation Muhamamd Hasan Askari Award is given to Najam ud Din Ahmad on his book “Fasana-e-Aalam”

The Award money Rs. 200,000/- will be given to each of Award winner for the National Literary Award 2019.

شمع خالد کے انتقال پر ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین اکادمی کا اظہار تعزیت


اسلام آباد(پ۔ر)اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر یوسف خشک نے معروف افسانہ نگاراور ریڈیو پاکستان کی سابقہ ڈپٹی کنٹرولر شمع خالد کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ شمع خالد ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور معروف افسانہ نگار تھیں۔ انہوں نے اپنے منفرد اسلوب سے ہم عصر تخلیق کاروں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ چیئرمین اکادمی نے کہاکہ شمع خالد نے اپنی تصنیفات کی صورت میں قیمتی ادبی سرمایہ چھوڑا ہے۔ اُن کی اہم کتابوں میں ”گیان کا لمحہ“، ”بے چہرہ شناسائی“ اور ”گمشدہ لمحوں کی تلاش“ شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ شمع خالد کی ادبی خدمات کو مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین ، اکادمی ادبیات پاکستان نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پس ماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

Dr. Yousuf Khushk, Chairman, PAL expressed condolences on the demise of Shama Khalid

Islamabad ( P.R): Dr. Yousuf Khushk, Chairman, Pakistan Academy of Letter (PAL), expressed deep sorrow and grief over the demise of Shama Khalid, a well-known novelist and former Deputy Controller of Radio Pakistan. He said that Shama Khalid was a highly educated and well-known novelist. With her unique style, she gained prominence among contemporary creators.

Chairman PAL said that Shama Khalid has left a valuable literary capital in the form of her writings. Her major books includes “Giyan Ka Lamha”, “Be Chehra Shanasai” and “Gumshuda Lamhon ki Talash”ments.

He said that the literary services of Shama Khalid will be remembered for a long time. Dr. Yousuf Khushk, Chairman, PAL, prayed that Allah Almighty grant her a high position in Paradise and bestow patience on those who are left behind.