

پاکستان کے موقر ترین ادبی جرائد میں شمار
بچوں کے ادب کا واحد ترجمان
انگریزی زبان میں شائع ہونے والےششماہی پاکستانی لٹریچرکا پہلا شمارہ 1992میں شائع ہوا تھا ، اس کے اب تک21شمارے شائع ہو چکے ہیں۔پاکستانی لٹریچر میں انگریزی کی تازہ تخلیقات کے ساتھ ساتھ اردواور دیگر پاکستانی زبانوں سےانگریزی تراجم بھی شائع ہوتے ہیں۔یہ رسالہ پاکستانی ادب کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کا اہم وسیلہ ہے۔
ادبیات انٹر نیشنل بھی سالانہ بنیادوں پر شائع ہوتا ہے۔اس کا اجرا بھی 2021میں ہواتھا۔یہ سمندر پار بسنے والے پاکستانی اہل قلم کا ترجمان ہے اور آن لائن شائع ہوتا ہے۔ اس میں بیرون ملک بسنے والے پاکستانی ادبیوں اور شاعروں کی تازہ تخلیقات کے ساتھ ساتھ مختلف قومی و بین الاقوامی زبانوں سے ترجمے بھی شائع ہوتے ہیں۔
اکادمی ادبیات پاکستان اپنی اور ملک کی دیگر ادبی و علمی سرگرمیوں کو اجاگر کرنے کے لیے سہ ماہی بنیادوں پرایک خبرنامہ’’ اکادمی‘‘ کے نام سے بھی شائع کرتی ہے۔ خبرنامے کی اشاعت کا آغاز 1983میں ہوا تھا۔ اس میں ادبی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ دیگر اہم ادبی خبریں بھی شامل کی جاتی ہیں۔
اکادمی کا سب سے بڑا کتابی منصوبہ
پاکستانی ادب کے معمار ، اکادمی ادبیات پاکستان کا سب سے بڑاکتابی منصوبہ ہے جس کے تحت پاکستانی زبانوں کےادب کے مشاہیر پر اب تک دو سو کے قریب کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔
اکادمی ادبیات پاکستان ،مختلف ادبی رسائل و جرائد میں شائع ہونے والے تخلیقی ادب سے، وقتاً فوقتاً انتخاب بھی شائع کرتی ہے۔
پاکستان ایک کثیر اللسانی خطہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت مختلف زبانوں سے اردو میں تراجم شائع کیے جاتے ہیں تاکہ قارئین ایک دوسرے کی زبانوں کے ادب سے روشناس ہوں۔
دیگر ممالک کے ادبی قارئین کو پاکستانی ادب سے روشناس کرانے کےلیے ، اکادمی ادبیات پاکستان مختلف پاکستانی زبانوں سے انگریزی میں ترجمے شائع کرتی ہے۔
بین الاقوامی ادب سے پاکستان کے قارئین کو روشناس کرانے کےلیے اکادمی ادبیات پاکستان انگریزی اوردنیا کی دوسری بڑی زبانوں سے اردو اور دوسری پاکستانی زبانوں میں ترجمے شائع کرنے کا اہتمام کرتی ہے۔
اس منصوبے کے تحت کسی ایک پاکستانی زبان سے کسی دوسری پاکستانی زبان میں ترجمے شائع کیے جاتے ہیں جیسے سندھی سے پنجابی یا پشتو سے بلوچی میں ترجمہ وغیرہ۔
صوفی شعراکے کلام کے اُردو زبان میں بھی تراجم شائع کیے ہیں تاکہ صوفیاکے افکار اور خیالات سے پاکستان کے تمام اہل قلم استفادہ کر سکیں۔
اس منصوبے کے تحت مختلف پاکستانی زبانوں کے ادب کی تواریخ شائع کی جاتی ہیں۔ یہ تمام تواریخ اردو میں لکھوائی گئی ہیں۔
اس منصوبے کے تحت نئے لکھنےوالوں کی رہنمائی کےلیے مختلف اصناف کی مبادیات کے حوالے سے کتابیں شائع کی جاتی ہیں۔
دو درجن کے قریب پاکستانی زبانیں اس وقت معدومیت کے خطرے سے دو چار ہیں۔ ان زبانوں کو معدومیت سے بچانا اکادمی ادبیات کی ترجیحات میں شامل ہے۔