

چیئرپرسن، اکادمی ادبیات پاکستان
اگست 2023 سے بطور چیئرپرسن فرائض انجام دے رہی ہیں
اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتونادب قوموں کا ثقافتی اثاثہ ہوتا ہے اور اکادمی ادبیات پاکستان کا بنیادی مقصد اس اثاثے کی حفاظت، ترویج اور فروغ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کے ہر خطے، ہر زبان اور ہر صوبے کے ادیبوں کو وہ پلیٹ فارم ملے جس کے وہ مستحق ہیں۔ مضافاتی اور دور دراز علاقوں کے ادب کو قومی دھارے میں لانا اکادمی کا بنیادی ہدف ہے۔
ہمیں اپنی مادری اور قومی زبانوں پر فخر ہونا چاہیے اور ان کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ میرا یقین ہے کہ ادب سرحدوں سے ماوراء ہوتا ہے — یہ دلوں کو جوڑتا ہے، ثقافتوں کو ملاتا ہے اور قوموں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔
— ڈاکٹر نجیبہ عارف
ڈاکٹر نجیبہ عارف ایک ممتاز ادبی شخصیت، ماہرِ تعلیم، نقاد، محقق اور مترجم ہیں۔ وہ اکادمی ادبیات پاکستان کی تاریخ میں اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔ انھوں نے اگست 2023 میں چیئرپرسن کا منصب سنبھالا۔ اس سے قبل وہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں فیکلٹی آف لینگویجز اینڈ لٹریچر کی ڈین اور شعبۂ اردو کی چیئرپرسن رہ چکی ہیں۔
ڈاکٹر نجیبہ عارف کی تخصص کا بنیادی شعبہ آرکائیول ریسرچ (محفوظ شدہ دستاویزات کی تحقیق) ہے جس میں انھوں نے اٹھارویں اور انیسویں صدی کے تقریباً بارہ مخطوطات دریافت، مرتب اور شائع کیے ہیں۔ انھوں نے بیس سے زائد کتب تصنیف کی ہیں اور قومی و بین الاقوامی تحقیقی مجلّات میں ساٹھ سے زائد مقالات شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی شاعری ترکی کی انقرہ یونیورسٹی میں نصاب میں شامل ہے۔
ڈاکٹر نجیبہ عارف نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں اردو تحقیقی مجلّات کی پہلی اشاریہ سازی ایجنسی قائم کی اور معروف تحقیقی مجلّات "معیار" اور "بنیاد" کی ادارت بھی کی۔ وہ متعدد قومی و بین الاقوامی ادبی کانفرنسوں اور سیمیناروں میں شرکت کر چکی ہیں اور پاکستانی ادب کی عالمی سطح پر نمائندگی کرتی ہیں۔
ڈاکٹر نجیبہ عارف کی تصانیف شاعری، افسانے، ناول، سفرنامہ، تنقید اور ترجمے کے متنوع شعبوں پر محیط ہیں۔
ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اپنی قیادت میں اکادمی کی ادبی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور کئی نئے اقدامات شروع کیے ہیں:
بطور چیئرپرسن اکادمی ادبیات پاکستان، ڈاکٹر نجیبہ عارف نے پاکستانی ادب کی عالمی سطح پر فعال نمائندگی کی ہے۔ انھوں نے چین میں بین الاقوامی ادبی کانفرنسوں میں پاکستانی وفد کی سربراہی کی اور کلیدی تقاریر کیں۔ ان کاایمان ہے کہ ادب سرحدوں سے ماورا ہوتا ہے — ڈاکٹر خلیل توقار کی تقریب تکریم میں انھوں نے کہا کہ "ادب کوئی سرحد نہیں جانتا" اور ترکی و پاکستان کے ادبی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کا عزم ظاہر کیا۔
ان کی ذاتی تصانیف بھی عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کر چکی ہیں — ان کی شاعری ترکی کی انقرہ یونیورسٹی میں پڑھائی جاتی ہے اور انھوں نے لندن کے سواس یونیورسٹی میں پوسٹ ڈاکٹرل ریسرچ مکمل کی ہے۔
| # | نام | مدت | حیثیت |
|---|---|---|---|
| 1 | ڈاکٹر نجیبہ عارف | 2023–Present | موجودہ چیئرپرسن |
| 2 | جناب مظفر علی برکی | 2023 | قائم مقام |
| 3 | ڈاکٹر یوسف خشک | 2020–2023 | |
| 4 | جناب محمد سلمان | 2020 | نگران/اضافی |
| 5 | ڈاکٹر راشد حمید | 2019 | نگران/اضافی |
| 6 | ڈاکٹر انعام الحق جاوید | 2019 | نگران/اضافی |
| 7 | جناب سید جنید اخلاق | 2018–2019 | نگران/اضافی |
| 8 | جناب عبدالمجید خان نیازی | 2018 | نگران/اضافی |
| 9 | ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو | 2015–2018 | |
| 10 | جناب شیراز لطیف | 2014–2015 | نگران/اضافی |
| 11 | جناب عبدالحمید | 2012–2014 | |
| 12 | جناب فخر زمان | 2008–2010 | دوسری مدت |
| 13 | جناب افتخار عارف | 2000–2008 | |
| 14 | جناب مرزا محمد مشیر | 1999–2000 | قائم مقام |
| 15 | جناب آفتاب احمد شاہ | 1999 | قائم مقام |
| 16 | جناب نذیر ناجی | 1997–1999 | |
| 17 | جناب فخر زمان | 1994–1997 | |
| 18 | جناب غلام ربانی اے آگرو | 1990–1993 | |
| 19 | جناب احمد فراز | 1989–1990 | |
| 20 | پروفیسر پریشان خٹک | 1986–1989 | |
| 21 | ڈاکٹر شفیق الرحمان | 1980–1986 | پہلے چیئرمین |