سلطان محمد نواز ناصر

اکادمی ادبیات پاکستان کے ناظمِ اعلیٰ (ڈائریکٹر جنرل) سلطان محمد نواز ناصر کا تعلق سول سروس آف پاکستان کے چونتیسویں کامن سے ہے۔ اُنہوں نے 2006 میں ملازمت کا آغاز کیا۔ وہ اِنلینڈ ریوینیو سروس میں بطور اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر، اور ایڈیشنل کمشنر کئی شہروں میں تعینات رہے جن میں فیصل آباد، سرگودھا، سیالکوٹ، اسلام آباد، پشاور، اور ڈیرہ اسماعیل خان شامل ہیں۔ انہوں نے ایف بی آر ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں بطور سیکریٹری ریوینیو بجٹ اور سیکریٹری مینجمنٹ بھی خدمات انجام دی ہیں۔

انہوں نے نمل اسلام آباد سے ایم اے انگریزی لسانیات و ادب، آئی بی اے کراچی سے ایم بی اے، پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے علومِ اسلامیہ، اور سیریکیوز یونیورسٹی نیویارک (امریکہ) سے پبلک پالیسی میں ہمفری فیلوشپ کی ہے۔ نیز وہ پاکستان، چین، اور امریکہ میں متعدد پیشہ ورانہ تربیتیں حاصل کر چکے ہیں۔

سلطان ناصر کے قلمی نام سے اُن کی آزاد نظموں کا مجموعہ ”کہیں نہیں“ (2020) جبکہ سوانحی ادب پر اُن کی تین کتب شہیدِ عشق (2013)، سیرتِ نور (2016)، اور خزائنِ فقر (2021) شایع ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کلیاتِ سیّد مبارک شاہ (2017) کی بھی جمع و تدوین کی ہے۔ ادب، تصوّف، تاریخ، ثقافت، اور تنقید جیسے موضوعات پر ان کے متعدد مضامین اُردو اور انگریزی زبانوں میں شایع ہو چکے ہیں۔