

"معاشرتی تفریق کا خاتمہ صرف ادب اور کتاب کے ذریعے ممکن ہے، جبکہ ادب کی ترویج میں ٹیکنالوجی کا کردار اہم ہے۔ سنیٹر پرویز رشید"
"ادب میں معنویت اور فکری بالیدگی ناگزیر، سماجی حقائق سے جڑا ادب ہی معاشرتی شعور کی تشکیل کرتا ہے۔ کشور ناہید"
"مضافاتی و علاقائی ادب کو قومی دھارے میں لانا اکادمی ادبیات پاکستان کا بنیادی ہدف ہے۔ ڈاکٹر نجیبہ عارف"
اسلام آباد (پ۔ر) معاشرتی تفریق کا خاتمہ صرف ادب اور کتاب کے ذریعے ممکن ہے، جبکہ ادب کی ترویج میں ٹیکنالوجی کا کردار اہم ہے ان خیالات کا اظہار سنیٹر پرویز رشید نے اکادمی ادبیات پاکستان، قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، اسلام آباد کے زیرِ اہتمام اہلِ قلم کے لیے دوسرے دس روزہ بین الصوبائی اقامتی منصوبے کا اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ واضح رہے کہ اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام اہلِ قلم کے لیے دوسرے دس روزہ بین الصوبائی اقامتی منصوبے کا اختتامی اجلاس 23 جنوری 2026 کو سہ پہر 03:00 بجے شیخ ایاز کانفرنس ہال میں نہایت وقار اور ادبی شان و شوکت سے منعقد ہوا۔ اس ادبی تقریب میں ملک بھر سے منتخب ادیبوں، شاعروں، محققین اور دانش وروں نے بھرپور شرکت کی۔
تقریب کا آغاز قاری عبدالشکور کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد شہزاد سلطان بلوچ نے براہوئی زبان میں نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کیا۔ اختتامی اجلاس کی صدارت نامور شاعرہ کشور ناہید نے کی، جب کہ شریکِ صدر سنیٹر پرویز رشید تھے۔ ڈاکٹر مقصود جعفری، جبار مرزا، امداد اکاش اور سعید اختر ملک نے بطور مہمانان خصوصی شرکت کی۔ نظامت کے فرائض رحمان حفیظ نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔
تقریب کے شریکِ صدر سنیٹر پرویز رشید نے اپنے خطاب میں کہا کہ معاشرے میں صنفی اور عقائد کی بنیاد پر موجود تفریق کے خاتمے کے لیے کتاب اور ادب کو مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ادیب اور شاعر اپنے فکری و تخلیقی اظہار کے ذریعے سماج میں برداشت، رواداری، ہم آہنگی اور انسانی اقدار کو فروغ دے سکتے ہیں، جو ایک مہذب اور صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔ سنیٹر پرویز رشید نے اس امر پر بھی زور دیا کہ موجودہ دور میں ادب کی ترویج اور اس کے اثر کو وسیع تر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے مؤثر استعمال کی اشد ضرورت ہے۔
صدرِ مجلس کشور ناہید نے ادب میں معنویت، فکری گہرائی اور سماجی صداقت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ادب اگر اپنے عہد کے سماجی حقائق سے جڑا ہو تو وہ معاشرتی شعور کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
جبار مرزا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسان کو آخری سانس تک سیکھتے رہنا چاہیے، کیونکہ علم، مطالعہ اور تجربہ ہی فکری ارتقا اور ذہنی بالیدگی کا اصل ذریعہ ہیں۔ سعید اختر ملک نے بین الصوبائی اقامتی منصوبے کی شفافیت، معیار اور انتظامات کو سراہتے ہوئے اکادمی ادبیات پاکستان کے ذمہ داران کو مبارک باد پیش کی، جب کہ امداد اکاش نے اس منصوبے کو ادیبوں کے مابین فکری مکالمے، قومی یکجہتی اور ثقافتی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایک مؤثر اور قابلِ تقلید اقدام قرار دیا۔
دوسرے دس روزہ بین الصوبائی اقامتی منصوبے کے شرکاء نے باری باری اپنے تاثرات، جذبات اور ان دس دنوں کے دوران گزرے شب و روز کی روداد سامعین کے ساتھ شیئر کی۔
اکادمی ادبیات پاکستان کی صدرنشین ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اختتامی خطاب میں اقامتی منصوبے کے شرکاء کی لگن، سنجیدگی اور ادبی دلچسپی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ مضافاتی و علاقائی ادب کو قومی دھارے میں لانا اکادمی ادبیات پاکستان کا بنیادی ہدف ہے تاکہ پاکستان کی لسانی، تہذیبی اور ثقافتی تنوع کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اکادمی ادبیات پاکستان کے تحت اپریل 2026 میں ایک عالمی ادبی کانفرنس منعقد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
تقریب کے اختتام پر چاروں صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے شرکاء میں اکادمی ادبیات پاکستان کی مطبوعات اور اعزازی اسناد تقسیم کی گئیں۔



























