آلودہ فضا کا ماتم

(ساجد سومرو)

آلودہ فضا کا ماتم

شہر کی فضا آلودہ ہوچکی ہے

کسی وائرس سے

جو زندگیوں کو تنہا ہونے پر

مجبور کررہا ہے

انسان انسان کو چھونے سے

ڈر گیا اور سانسیں

سانسوں میں ملنے سے

خوف کھا کر

سینے میں دفن ہوچکیں

لوگ ہجر کے تصور سے

حواس باختہ ہوکر

عشق کی جڑیں کاٹتے

اور محبت کے درخت پر

لعنت بھیجتے ہوئے

وصال وصال کرتے رہے

میں نے اس آلودہ فضا میں

تمھارے تصور کا ماسک

خیالوں پر اوڑھ کر

ان تمام سوچوں سے

دل پاک کیا

جو مجھے ڈراتی ہیں

تمھارے لکھے لفظ

اور وہ پتھر پر لکیر جیسا

آفاقی سچ

کہ تم میرے وجود سے

اور میں تمھاری روح سے

تخلیق ہوا

سب سے خوبصورت سچ

قرار پائے

سو میں نہیں ڈرتا

فضا کی آلودگی سے جب

ہر شخص تنہا ہو

اور گھروں میں مقید اجسام

محبت کے لیے سسک جائیں

کیونکہ میرے جسم نے

تمھارے جسم سے محبت نہیں کی

میری روح نے تمھاری روح سے

محبت کا جام پیا

اور تم کو خدا مان لیا

کوئی بھی آلودگی

روح کو روح سے

جدا نہیں کرسکتی

Comments are closed.