اس بار بھی وہ مشکلیں آسان کرے گا

(ڈاکٹرمظہر اقبال)

اس بار بھی وہ مشکلیں آسان کرے گا

احسان روا ہے وہی احسان کرے گا

ہر حال میں گرنی ہیں یہ تاریک فصیلیں

ہر سمت سنو روشنی قرآن کرے گا

مدّت سے ہمیں سامنا طوفان ہی کا تھا

اس بار مگر سامنا طوفان کرے گا

ہر سانس ہماری تو دعاؤں کو لیے ہے

کیوں قہر کوئی شہر کو ویران کر ے گا

درویش کی باتوں کا بُرا مانتے ہو کیوں

درویش بھلا آپ کا نقصان کرے گا

ہم اُ س کے کرم کی جو دعا یار کریں گے

پھر ہم پہ کرم دیکھنا رحمان کرے گا

بھر اور کسی اور کا محتاج نہ ہو گا

خود اپنی مدد آپ جو انسان کرے گا

تقلید یا تردید یا تنقید بجا ہے

اس بات کا تو فیصلہ سلطان کرے گا

دانش سے اگر کام نہ لے گا مرا محسن

ہیجان بپائی سے وہ نقصان کرے گا

Comments are closed.