انسان صفت فقیر ہم

(تبسم انیلا)

انسان صفت فقیر ہم
ومکاں زماں ہیں پوچھے کیا

ہیں گم میں ذات کی انسان
مکاں و کون بزمِ

آشنا نا سے حقیقت
ہیں گم میں بیگانگی

دوڑ کی تک موت سے پیداٸش کشمکش
ہے جاتی ہو ختم میں بھر پل

زندگی حصارِ مختصر و طویل
زندگی ہے زیاں سودو بندگی نہ زندگی نہ

Comments are closed.