طلوعِ ماہِ رجب ہوا جب

طلوعِ ماہِ رجب ہوا جب
کسے خبر تھی

وبا ہمارے وطن پہ نظریں جمائے

آنے کو تل گئی ہے

ہم اپنی مستی میں ،خوش خرامی میں

شاد کامی کی سر خوشی میں

ہوائے عصر رواں کے ہمراہ رقص میں تھے

ہمارے وہم و گماں میں بھی دور تک کہیں

ایسے موسموں کا گزر نہیں تھا

جو ہم پہ آکر ٹھہر چکا ہے

اور اس سے ہم سب گزر رہے ہیں

عجیب سی بے دلی،اداسی کا دور دورہ ہے

اور اس میں بجائے اس کے کہ

ربِّ کعبہ سے فضل مانگیں

ہم اپنے موبائلوں پہ ،ٹی وی پہ اپنی نظریں جمائے

تشہیر کے طریقوں پہ غور کرنے میں منہمک ہیں

نئے نئے جھوٹ گھڑ رہے ہیں

ہماری حسِّ مزاح بھی ایسی جاگ اٹھی ہے

کہ آزمائش پہ ہنس رہے ہیں

خدا کی جانب سے آج شعبان کا مہینہ عطا ہوا ہے

یہ میرے آقا ﷺ کا ہے مہینہ

میں اس مہینے کا واسطہ دے کے مانگتی ہوں دعا

اے مالک !

کہ اس کے بعد آنے والا رحمت بھرا مہینہ

شفا کا لے کر پیام آئے

سبھی دلوں کو قرار آئے

زمین پر پھر بہار آئے

Comments are closed.