قرنطینہ

(عائشہ ناز)

ہر بات پہ افواہیں ہر درد اڑادینا

مٹی میں ملا دینا اور گرد اڑادینا

تنہائی کے پہلو میں زندہ بھی ہوں ،خوش بھی ہوں

جاکر یہ خبر میرے ہمدرد اڑا دینا

Comments are closed.