تو آؤ ماضی میں چلتے ہیں

(عدیل رزاق)

تو آؤ ماضی میں چلتے ہیں

یہ جو مشکل وقت ہے

کچھ یاد دلاتا ہے اپنے ماضی کی

وہ ماضی جس میں ہمارے آباؤاجداد ہیں

وہ ماضی جس میں ہماری بنیاد ہے

وہ ماضی جس میں نہ ڈرتھا,نہ خوف

ہاں میں مانتا ہوں!

آج خوف تاری ہے ذہنوں میں

ڈرلگتاہے سوچنے سے بھی

گھروں میں بیھٹے ہیں ہم

زندگی رُک سی گئ ہے

یہ قوم جوسلام سے پہلے سلام کرتی ہے

مگر اب ہاتھ ملانےسے ڈرتی ہے

تو آؤ چلے آؤ!

اپنے ماضی میں چلتے ہیں

اپنے آباؤاجداد کے پاس چلتے ہیں

یاد ہے نہ! حضرت خالد بن ولید

وہ سیف االلہ

جو کوئ جنگ نہیں ہارے

تو جان لو! اے میری قوم کے نوجوانوں!

تم سپاہی ہو حضرت خالد بن ولیدکے

تمہاری رگوں میں جو خون دوڑتا ہے

اس میں خوشبو ہے حضرت خالد بن ولید کی

مگر اپنے آباؤاجداد کے خون کی خوشبو کو پانا اک راز ہے

جو ملتا ہے

تنہائ میں رونے سے

اپنے اندر کے سفر سے اور سجدوں کی منزل میں

تو آؤ چلے آؤ!

اپنے آباؤاجداد کے پاس چلتے ہیں

اپنے اندر کے سفر سے گزرتے ہوے سجدوں کی منزل پر پہنچتے ہیں

Comments are closed.