فراق و رنج میں ہیں مبتلا، کرونا کچھ

(علی کمیل قزلباش)

کرونا کچھ

فراق و رنج میں ہیں مبتلا، کرونا کچھ
علاج ، درد کی کوئی دوا ، کرونا کچھ

گلے ملو نہ ملو ، ھاتھ بھی ملا نہ ملا
نظر ملانے میں ہے کیا بھلا ،کرونا کچھ

کسی کے واسطے گھر میں رہو، کسی کے بغیر
رکھو خود ہی سے بھی خود فاصلہ کرونا کچھ

یہ وقت ، رنگ سیاست نہیں جمانے کا
سوالِ دست طلب کی دوا کرونا کچھ

مقام منبر و مسجد ہی تک خدا کو نہ رکھ
ستم زدوں کے بھی کچھ کام آ کرونا کچھ

یہ جنگ درجہ و طبقات تک نہیں محدود
میری بقا میں ہے تیری بقا کرونا کچھ

کمیل گھر میں نہ بے کار کاٹ وقت فراغ
اٹھا ، اٹھا لے کتابیں اٹھا ، کرونا کچھ

Comments are closed.