یہ رونا کورونا کے ہی باعث ہے

(خضر شہزاد)
“یہ رونا کورونا کے ہی باعث ہے”

آج کل تو کورونا وائرس نے دھوم مچائی ہے

ہر زبان نے اسی کے متعلق سنائی ہے

چاروں طرف سے یہی صدا آئی ہے

اس وبا سے مشکل جان کی رہائی ہے

آج کل تو شہ سُرخیاں یہی ہیں خبروں میں

کہ لوگ آناً فاناً لیٹ رہے ہیں قبروں میں

اب تو علماء نے بھی یہ بات مانی ہے

اور قرآن سے بھی تم نے یہ بات جانی ہے

کہ کورونا کیخلاف احتیاطی تدابیر اپنانی ہے

پھر کیوں تم نے اپنے کنبے کو باہر کی سیر کروانی ہے

کیوں لاپرواہی کرتے ہو، کیا نہیں اپنوں کی جان پیاری ہے

دیکھو تو ذرا یہ کورونا پورے جہاں پر بھاری ہے

واقف ہیں سب اس وبا سے پر کچھ نہیں کرتے ہیں

اس کی ہر خبر، ہر اطلاع پر کان دھرتے ہیں

پتہ ہے سب ہر روز لوگ اس سے مرتے ہیں

جانتے ہوئے بھی اس کا مذاق اڑا کر اپنی زندگی سے لڑتے ہیں

اس سے بچنا چاہتے ہی تو اس کے بارے میں سنجیدہ ہو جاؤ

یا پھر اس کا مذاق اڑا کر ہمیشہ کے لیے رنجیدہ ہو جاؤ

اس وبا سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اپناؤ

سب سے پہلے نیند پوری کرو اور صحت مند غذا کھاؤ

کسی کے قریب نہ جاؤ، گلے نہ ملو، ہاتھ نہ ملاؤ

صابن سے ہاتھ دھو اور ماسک کا استعمال یقینی بناؤ

ہم سب ان تدابیر پر عمل کریں، یہی اس کی مات ہے

ہم گھروں میں محدود رہ کر بھی حکومت کے ساتھ ہیں

ان تدابیر کے علاوہ بھی اس وبا سے بچنے کے لئے کچھ کرنا ہے

ہمیں متحد ہو کر اس وائرس سے لڑنا ہے

اب بہت ہو گیا ، اب اس کا کچھ نہ کچھ تو کرنا ہے

اے وائرس! اب تجھے ہمارے ہاتھوں مرنا ہے

احتیاط کے بعد اتحاد ہی اس سے نجات کا ہے ذریعہ

اب وقت آگیا ہے سمندر میں گرنے کا، سن لو سب دریا

ویسے یہ وبا بھی خدا کا جلال ہے

لوگ آناً فاناً مر رہے ہیں ، کمال ہے

پیغام یہ کہ توبہ کر لے اے انسان ورنہ تیرا زوال ہے

اب تو سبق سیکھ انسان کے اس جہاں میں تیرا جینا بھی محال ہے

معافی مانگتے ہیں ،کہ ہمیں بچا لے اس عذاب اس اے خدا

ہمیں اپنے کیے پر ندامت ہے، اس جہاں کو نہ کر اتنا جدا

مانا کہ اس وقت پوری قوم جدا ہے

پر ہمارے ادارے اپنی قوم پر فدا ہیں

اور تمام کے تمام کا اس وبا کا خاتما ہی

مدّعا ہے

یاد رکھیں! ہمتِ مرداں ، مددِ خُدا ہے

ہم سبز جھنڈے تلے ایک ہیں، سن لے اے بیماری!

تو بال بھی نہ باکا کر پائی گی،قوم کا ہماری!

Comments are closed.