خود کلامی

(شاھین کاظمی)

خود کلامی

افلاک سے بوند بوند گرتی
خوف کی اوس
اپنے دامن میں کئی پُر عذاب زمانوں کی باس لیے
شہرِ خواب کو تاراج کئےدیتی ہے
نئی آنکھوں کی کھوج میں بھٹکے ہوئے خواب
بے صدا دریچوں میں لٹکی خاموش زبانیں
اورگلیوں میں بپھری متعفن تاریکی
شناخت نگل رہی ہے
شب گزیدو!
کیا روشنی کا سفر تمام ہوا؟

بے سمتی کا سفر کس لمسِ تائید کا منتظر ہے
کہ پردہءشب چاک ہو؟
خود کلامی موقوف کرو
نابود کا آسیب
ہست کے دریچوں میں دھرے چراغوں
پر قابض ہوا چاہتا ہے
یہ ماورائے حواس اندھیرا
ہمیں نگلنے کو تیار ہے
شب گزيدو!
آؤ روشنی کے لیے خود کو آگ لگالیں۔

Comments are closed.