ان تمام منظروں کے نام

( شاھین کاظمی)

ان تمام منظروں کے نام
جنہوں نے آسمان سےگرتی گردکوسانسوں پر قابض ہوتے دیکھا
———-
وبا کے دنوں میں کہی گئی نظمیں
ہماری گم گشتہ محبتوں کی طرح
دل پر ایک گہری کسک چھوڑتے ہوئے
وقت کے دائروں میں گم ہو جاتی ہیں
لیکن کسی ڈھلتی شام کی دہلیز پر بیٹھ کر
ڈوبتے ابھرتے لمحوں کے ساگر سے
یادوں کے موتی چنتے ہوئے
اچانک ابھر کر سامنے آتی ہیں
اور اپنا اسیر کر لیتی ہیں
اے حروف معبد میں بیٹھے فنکارو
آؤ آج
جب کہ موت ہمارے دروازوں پر دستک دے رہی ہے
اپنی ڈھلتی شاموں کے لیے
محبت کے وہ نغمے گائیں
جس سے موت سہم جائے
ہاتھوں میں ہاتھ دینا ضروری نہیں
نہ باہوں میں باہیں ڈالنا
آؤ اپنی اپنی خواب گاہوں
چھتوں
جھروکوں
اور کھڑکیوں میں
تنہائی کی آواز میں آواز ملا کر
ایسا نغمہ تخلیق کریں
جسے فنا کے ہاتھ چھونے سے قاصر ہوں
تا کہ جب موت کا یہ رقص تھمے
تو ہمارے گلی کوچوں میں جاگتی زندگی
یہ جان سکے کہ
ہم موت کے بے ہنگم رقص کے دوران بھی
اُ سے پیار کرنا نہیں بھولے-

Comments are closed.