میں پریشان ہوں

(محمد شیراز غفور)

میں پریشان ہوں
میں مگر اپنی خا طر پریشاں نہیں
اپنے آ نگن میں بچوں کو جب بھی کبھی
اتنا سہما ہوا
اس قدر خوف میں ڈوبتا دیکھتا ہوں
تو پھر سوچتا ہوں
کہ یہ پھول کھلنے کی عمروں میں
کیوں ایسے مرجھانے کے خوف میں مبتلا ہیں
میری کوئی تسلی بھی معصوم ذہنوںمیں امید کا
اک دیا تک بھی روشن نہیں کر سکی
ان کے اسکول کی چھٹیوں میں
ہمیں ان سے وعدے نبھانے کی خاطر
کئی کام اپنے بھی قربان کرنے کی عادت سی پڑنے لگی تھی
مگر اب کے اسکول کی چھٹیوںمیں
تو بس یہ فقط ہاتھ دھونے میں مصروف ہیں
گھر کے بس ایک کونے میں مصروف ہیں
ہاں پریشان ہوں
میں کہ اس وائرس سے ، وبا سے بہت ہی پریشان ہوں۔
———————————-
محمد شیراز غفور

غلط ہے سوچ کہ ہوتا رہے جو ہونا ہو
ہے احتیاط ضروری کہ کل نہ رونا ہو
رہیں امان میں اس کی وہی محافظ ہے
خدا کرے نہ کسی کو کبھی کرونا ہو
———————————-
محمد شیراز غفور

آسانی ہے گھر کے اندر خطرہ باہر جانے میں
ماں کی آنکھیں بھیگ رہی تھیں بیٹے کو سمجھانے میں
———————————-

Comments are closed.