امیدِ نوبہار

(ناصر ملک)

اے ربِ عصر! ہم نے بڑے دکھ اُٹھائے ہیں

لیکن ہر امتحان میں جوہر دکھائے ہیں

اے ظلمتِ الیم! ذرا دشمنوں سے پوچھ

ہم اہلِ دل تو موت سے ٹکراتے آئے ہیں

اے فرقہ ساز! جال میں آنے کے اب نہیں

ہم اس زمیں کی خاک، اسی ماں کے جائے ہیں

اے وقتِ اضطراب! پلٹ جا، کہ بارہا

تُو نے ہمارے دست و ہنر آزمائے ہیں

اے تیرہ دل زوال! ترے روبرو سدا

ہم آنکھ میں اُمید لیے جگمگائے ہیں

قائم رہو اے ملکِ خداداد ! حشر تک

ہم رکھ کے اپنی جان ہتھیلی پہ لائے ہیں

Comments are closed.