وبا اور دعا

(شجاعت سحر جمالی)

دوپٹے سے بنا کر ماں نے اک رومال بھیجا ہے,
لکھا ہے,
لال میرے اک وبا پھیلی ہوئی ہے ,
تم جہاں رہتے ہو اس بستی پہ شاید دیو کا سایہ ہے کوئی,
تم سنو بیٹا ذرا سا دھیان رکھنا!
یہ جو کپڑا ہے مقدس ہے کہ تیری ماں نے اس کپڑے کے ٹکڑے پر دعائیں رد آفت کی بہت سی پھونک کر بھیجی ہیں,
دیکھو تم نہ گبھرانا,
وبا کوئی بھی ہو ماں کی دعاوں سے پلٹ جاتی ہے ,
اس کپڑے سے منہ کو ڈھانپ لینا سانس لینے میں اگر مشکل ہو,
کوئی بھی فرشتہ موت کا تم کو کبھی بھی چھو نہیں سکتا.

Comments are closed.