کروناوائرس کے تناظرمیں سرائیکی غزل مسلسل

(قاسم سیہانی)

قوم دا حوصلہ اج ودھایاونجے
ایں کروناکوں جلدی بھگایاونجے
کجھ ڈینواریں دی برداش پیداکرو
اپنڑے بالیں کوں گھراچ لکایا ونجے
ایں کرونا دا دیسی دوا میں ڈساں
دھواں ہرمل دا ہر گھر دکھایا ونجے
سارے سنگتی اساں اج تہیہ کروں
رزق مزدور دے گھرپچایاونجے
اساں کرنڑے کروناوباکوں ختم
ایہوجذبہ جہان اچ ڈکھایا ونجے
زندگی اپنی دا تے جیرھا لائی کھڑے
اوں معالج دے گل سہرا پایا ونجے
اے بیماری یقینا ختم تھی ویسی
سرخدادے اگو ول جھکایا ونجے
ویلھا ہک ڈوجھے دے کمیں آونڑداہے
فرق دشمن سجن دا مٹایا ونجے
فوج آئی یا پولیس آئی حفاظت کیتے
ہتھ اداریں دا ہرجاہ وٹایا ونجے
ایں بیماری کنوں جند چھڑا ونڑکیتے
فاصلہ رکھ کرائیں ہنڑ الایاونجے
اساں قاسم یکی قوم ہک مٹھ ہسے
ایہوسبق نصاب اچ پڑھایا ونجے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ
پاکستانی قوم کاحوصلہ بڑھایاجائے اس کرونا وائرس کو بھگایاجائے۔ کچھ دن کے لیے برداشت پیداکریں اپنے بچوں کوگھرمیں رکھیں۔ ہرمل ایک قدیم جڑی بوٹی ہے پاکستان کے دوسرے میدانی علاقوں کی طرح سرائیکی وسیب میں تھل دامان روہی میں کثرت سے پائی جاتی ہے اس کے دھواں سے تمام وائرس کے جراثیم ختم ہوجاتے ہیںیہ قدیم دیسی علاج ہے ۔آئو سب دوست ملکر اس مزدور کے گھر راشن پہنچائیں جس کا اس لاک ڈون کی وجہ سے کام بند ہے بچے بھوکے ہیںدیہاڑی نہیں لگی۔ ہم نے اس وبا کوختم کرناہے سارے جہاں کو یہ جذبہ دکھائیں۔ جو اپنی زندگی دائو پرلگاکر کرونا کے مریضوں کا علاج کررہے ہیں ایسے ڈاکٹروںکے گلے میں حوصلہ افزائی کے ہار ڈالے جائیں۔ یہ بیماری یقینا ختم ہوگی اللہ تعالی کے آگے صدق دل سے سجدے کیے جائیں اپنے گناہوں کی توبہ کی جائے۔ یہ قت ذاتی دشمنیاں چھوٹی رنجشیں بھلاکر ایک دوسرے کے کام آنے کا ہے۔ فوج ہویاپولیس یہ ہماری حفاظت کے لیے ہیں ان اداروں کا ہاتھ بٹاناچاہیے ۔ اس بیماری سے جان چھڑانے کے لیے ایک دوسرے سے فاصلہ رکھاجائے ۔قاسم ہماری ساری قوم ایک ساتھ کھڑی ہے یہی قومی جذبہ ہمارے نصاب میں بھی پڑھایاجائے۔

Comments are closed.