لوگوں کا کیا ہو گا اور غریب دوستوں کا کیا بنے گا

(فضل سوکڑی)

( کورونا دے حوالےنال) بےسہاریں دا یار کیا تھیسی
غریب یاریں دا یار کیا تھیسی

وبا توں بچدن تاں بکھ توں مردن
ڈیہاڑی داریں دا یار کیا تھیسی

مبتال ھن جو ایں بیماری وچ انہاں بیماریں دا یار کیا تھیسی

ٹیسٹ کٹاں نہ ملک آلے ھن
اتھاں ہزاریں دا یار کیا تھیسی

کھڑ گئی ھے بے موسمی بارش
ھن لیاریں دا یار کیا تھیسی

میڈا مالک توں قحط نہ ڈیویں
چیڑیں جھاریں دا یار کیا تھیسی

نہ آیا

منیج

رب جے

رٹھڑا

گناہ گاریں دا یار کیا تھیسی

فضل جو فارغ ہیں دین دنیا توں اساں بیکاریں دا یار کیا تھیسی

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

اردو ترجمہ

لوگوں کا کیا ہو گا اور غریب دوستوں کا کیا بنے گا. اگر دیہاڑی دارلوگ کورونا وبا سے بچنے کیلئے گھر بیٹھتے ہیں بےسہارے

ہمارے ملک

جومریض اس بیماری میں مبتال ہیں ان مریضوں کا کیا بنے گا.

تو بھوک سے مرتے ہیں تو ان لوگوں کاکیا بنے گا.

ٹیسٹ کٹس اور آالت کی کمی کی وجہ سے ہمارے ہزاروں پاکستانیوں کا کیا بنے گا. موسم کے بغیرجو بارشیں رک نہیں رہی میں
بارشوں میں گندم کاٹنے والوں کا کیا بنے گا. آئےمیرے رب کھبی ہمیں قحط نہ دینا انسانوں کے عالوہ چیڑیوں پرندوں کا کیا ان
گا. اگر ہم اپنے پروردگار کو راضی نہ کر سکے تو ہم جیسے گناہگاروں کا کیا بنے گا. فضل ہمارے جیسے لوگ جو نہ دین بنے
کے اورنہ دنیا کے ہیں ایسے ناکام لوگوں کا کیا ہو گا

Comments are closed.