ان دنوں میں جو ہیں وطن پیرا

(نجم الحسن ہادی)

خوبصورت ہے خوبصورت ہے
موت سے پھر بھی ڈر سا لگتا ہے
کوٹ پہنے سفید اس نے کہا
نہیں تاریک رہ سے جو بھاگے
ان دنوں میں جو ہیں وطن پیرا
وہی فاضل وہی چمن پیرا
کوٹ اجلا نشان امن کا ہے
نرس یا ڈاکٹر وفا سے ہیں
سارا لشکر ہے اب بشر پیرا
زندگی رنگ اب نیا لائی
اپنے بچوں سے دور رہتا ہے
رات موسم بہت عجیب ہوا
ہر کوئی خوف لے کے گھر آیا
یعنی باد۔دہن سے ڈر گیا ہے
جس جگہ فرض وہ نبھاتا ہے
زہر آلود ان دنوں ماحول
ڈاکٹر ہر وبا سے کھیل گیا
نفسا نفسی کا دور آیا نہیں
ابھی کچھ وقت باقی ہے لوگو
یعنی رحمت کا کوئی برزخ ہے
لوٹ آؤ خدا کی جانب تم

————

چلی کیسی ہوا مرے محسن
ہو گئے سب جدا مرے محسن

دور سے دے صدا مرے محسن
کر بھلا ہو بھلا مرے محسن

بس نظر سے نظر ملا نہ کہ ہاتھ
ان دنوں ہے وبا مرے محسن

لٹ رہی ہے حیات۔ارضی سب
اس وبا کو اٹھا مرے محسن

کوئی رویا تو ہے خدا کے حضور
اتری ہم پر سزا مرے محسن

Comments are closed.