میں بیٹی ایک مزدورَ؛ کسان کی ہوں

(فرزانہ فیاض)

میں بیٹی ایک مزدورَ؛ کسان کی ہوں
میرے بابا مجھ پہ صدقے واری جاتے ہیں
میرے نام کا قرعہ نکال کر اپنے کام کی ابتدا کرتا تھا
شام کو آکر مجھے ہار کانٹے پہناتا تھا
عیدین، شب براتوں پہ نءے کپڑے پہناتا تھا
کبھی بھی ہمیں بھوکا نہ سلاتا تھا
آجکل میرا بابا، پیاری اماں میری
گھر پر ہوتے ہیں اور ہمیں دیکھتےرہتے ہیں
عیدین اور شب براتیں اس سال نہیں آئیں
لگتا ہے وہ وقت کوے لے گئے ہیں
اگ لگے اس کرونا وبا کو
جس نے آ کے ہمیں بھوکامار دیا ہے
یہ ساری بستی وبا کی بیماری میں مبتلا ہے
یہاں کون ہے جو ہماری بھوک ختم کرے
ہمیں قبریں نصیب فرمانا رب ہمارے
تیرے بندوں نے ہمیں جیتے جی مار دیا ہے

Comments are closed.