یوں کرونا سے ڈر آتے جاتے

(عماد بخاری)

کرونائی غزل
یوں کرونا سے ڈر آتے جاتے
دور سے ہاتھ ہلاتے جاتے
حوصلہ پاس بلانے کا نہیں
دیکھتے رہتے ہیں آتے جاتے
آج کل سب ہیں حکیم ِ حاذق
تم بھی اک نسخہ بتاتے جاتے
دے کے کچھ پیار کا راشن مجھ کو
نیکیاں تم بھی کماتے جاتے
ہاتھ دھونے میں برائی کیا ہے
ہاتھ ہی میرے دھلاتے جاتے
منع ہے ملنا ملانا عماد
ہجرکا گیت ہی گاتے جاتے

Comments are closed.