محبت خط میں لپٹی سو رہی ہے

(سرفراز تبسم)

محبت خط میں لپٹی سو رہی ہے
کہانی بال کھولے رو رہی ہے

کہیں نام و نشاں ملتا نہیں اب
یہاں کچھ دن محبت تو رہی ہے

یہ دنیا اس لئے ہے اب بھی قائم
کہیں تھوڑی سی چاہت جو رہی ہے

کہاں جانے محبت گم ہوئی ہے
تو کس جانب روانہ ہو رہی ہے

یہیں پر نقش ہوکر رہ گئی ہے
یہیں پر ہر نشانی کھو رہی ہے

کہیں کشتی میں بیٹھی کوئی لڑکی
ستارے آسماں میں بو رہی ہے

بدن کی دھوپ بھی ہے ڈھلنے والی
وطن کو واپسی جو ہو رہی ہے

کتابوں میں ملے گی اب محبت
جہاں سے تو یہ رخصت ہو رہی ہے

Comments are closed.