اِک ہجر کا موسم ہے کانٹوں بھرے بستر میں

(عطا محمد عطا)

اِک ہجر کا موسم ہے کانٹوں بھرے بستر میں. لپٹے ہوئے سوتے ہیں اک درد کی چادر میں.
چاہت کا کرونا ہے اک خوف کا کونہ ہے.
تم ڈھونڈ نہ پاؤ گے گم رہتے ہیں دلبر میں.
اے روگ کرونا کا تو خود ہی بتا ہم کو. کس نے تجھے بھیجا ہے انسان کے دفتر میں.
یا رب میرے بچوں کو سیَارہ نیا دے دے. تو کافی و شافی ہے داخل ہوں میں نشتر میں. لوگو نہ ڈراؤ تم وائرس کی تباہی سے. میں موت کو چکھتا ہوں ایمان کے ساغر میں.
بیمار جو میں ہوتا سینے سے لگاتی تھی.
سو دفن مجھے کرنا تم پہلوئے مادر میں.
یک طرفہ تماشا سا رہتا ہے عطا اکثر.
رکھا گیا ہے مجھ کو اب پہلے ہی نمبر میں.

Comments are closed.