لا تحزنوا

(رخسانہ صبا)

یقین رکھو
نئے مغنّی
ستار کے تار چھیڑدیں گے
کسی نئی لَے پہ سرمدی گیت پھر سنوگے
تمھارے بچوں کے پھول سے عارضوں پہ بوسے بھی ثبت ہوں گے
سبھی تعلق،تمام رشتے
جو فاصلوں کی منڈیر سے دیکھتے ہیں تم کو
وہ گھر کے آنگن میں بول اٹھیں گے
یقین رکھو
کہ ہم کو اک روز یہ اجازت بھی مل سکے گی
کہ اپنے پیاروں کی میتوں پر بھی روسکیں ہم
یہ زندگی پھر سے چل پڑے گی
ہماری دنیا، تمھاری دنیا
یہ گہرا صدمہ بھی جھیل لے گی یقین رکھو
یقین رکھو کہ نارِنمرود،چاہِ کنعاں ،عصائے موسیٰ کی وہ صدائیں
حرا کی اور ثور کی فضائیں
یہ کہہ رہی ہیں
فرنٹ لائن پہ لڑنے والوں کا جذبۂ بے مثال اک دن
حقیر کیڑے کی سرکشی کو شکست دے گا
بس ایک لا تحزنوا کا نعرہ بچا کے رکھنا

————————–

کچھ تو کہو کیسا لگتا ہے
یاد تو ہوگا تم کو وہ دن
جس دن اک وحشی لمحے نے
ایک ہی جھٹکے میں سب رشتے توڑدیے تھے
میں زندہ تھا لیکن مجھ کو
ایسے کاٹ کے پھینک دیا تھا
جیسے جسم سے گلے سڑے اعضا کو الگ کیا جاتا ہے
اب جو تم سب
اپنے اپنے گھروں کے زندانی ٹھہرے ہو
کچھ تو کہو کیسا لگتا ہے

کیسا لگتا ہے جب آنکھیں
رنگوں، پھولوں اور خوابوں سے
خود کو بھرنے کی خواہش میں جل اٹھتی ہیں
لیکن سنگی در وازوں کی
چوکھٹ پر مصلوب کیا جاتا ہے ان کو

کیسا لگتا ہے جب ہاتھ
گھروں ،بازاروں اور گلیوں میں
جھیلوں اور چشموں کے کنارے
شاپنگ مالز میں
اور اپنے پیارے رشتوں میں
ہنستی بستی اس دنیا کو

اپنے دل کی دیواروں پر
آویزاں کرنے کی خواہش میں مرتے ہیں
لیکن اک جنبش پر بھی معتوب کیا جاتا ہے ان کو

کیسا لگتا ہے جب روحیں
جسم کی تال پہ رقصاں ہو کر
بامِ فلک کو چھونے کی چاہت رکھتی ہیں
لیکن کمروں اور دالانوں سے کچھ آگے
جبر کی اک دیوار کھڑی کردی جاتی ہے

کیسا لگتا ہے جب سانسیں
دریا کی لہروں کی دھن پر
چلنے کی حسرت رکھتی ہیں
لیکن بھاری بوٹوں سے لپٹی ہوئی مٹی
نتھنوں میں بھردی جاتی ہے

میری چیخ اُبھری تھی لیکن
تم سب نے چُپ سادھ رکھی تھی
لیکن اب تم یہ تو بتائو
زندانی بن کر رہنا کیسا لگتا ہے
اپنے ہی گھر کے کمروں میں بٹ کر رہنا
ہنستی بستی اس دنیا سے کٹ کر رہنا
کچھ تو کہو کیسا لگتا ہے ؟

—————–
قرنطینہ اگرتیار کر لیتے
نہ جانے کیوں
قریباً اک صدی پہلے بھی
میرا زرد چہرہ دیکھ کر تم ڈر گئے تھے
آج پھر اک بار جانے کیوں
مری ہمسائیگی سے ڈر گئے ہو تم
سیاست اور معیشت کے ہزاروں دائو پیچ آتے ہیں تم کو
اور تم اپنے ہی ہم جنسوں کا سودا کرتے رہتے ہو
ہمیشہ ان میں تم نے موت بانٹی ہے
(اور اب تو موت کو بھی تجربہ گاہوں میں تم تخلیق کرتے ہو)
مگر اے ابنِ آدم!
اب قرنطینہ مقدر ہو گیا ہے
اور مری کم مائیگی سے ڈر گئے ہو تم
مجھے بھی آج تم سے صرف اتنی بات کہنی ہے
قرنطینہ کوئی تیار کر لیتے
تو نفرت اور دہشت کا کوئی بھی وائرس قابو میں آجاتا
تمھارے منھ پہ اتنے خون کے دھبے نہیں ہوتے
محبت کو بچانے کے لیے بھی تم
قرنطینہ اگر تیار کر لیتے

Comments are closed.