ہر شخص کی آنکھوں میں عجب خوف بسا ہے

(طارق چغتائی)

ہر شخص کی آنکھوں میں عجب خوف بسا ہے
ہر شخص پریشان ہے اور سہما ہوا ہے

برباد ہوئی جاتی ہے مولا تری دُنیا
رحمت کا تُو پیکر ہے ابھی سوچ رہا ہے

پتے بھی ہوئے زرد یہاں پھول بھی بے رنگ
مظلوم سا گلشن ہے تو ظالم سی ہوا ہے

انسان سے انسان تلک پھیلے وبا ، اور
محسوس یہ ہوتا ہے دُعا ہے نہ دوا ہے

ہر چیز کہ نابود ہوئی جائے یکایک
باقی جو بچا ہے وہ فقط دستِ دُعا ہے

مسجد میں بھی جائیں تو رہے خوف کا عالم
پیشانی پہ سجدوں کا بھرم داغ بنا ہے

زندہ ہیں مگر موت سے بدتر ہے یہ جینا
ہر وقت یہ لگتا ہے یہی وقتِ قضا ہے

اللہ معافی مرے اللہ معافی
حالات بتاتے ہیں کہ تُو ہم سے خفا ہے

ویران ہیں بازار گلی کوچے ہیں سنسان
طارقؔ تری دُنیا میں عجب حشر بپا ہے

Comments are closed.