ہر پل رہی ہے زیست نئے امتحان میں

(طارق چغتائی)

ہر پل رہی ہے زیست نئے امتحان میں
بارش تھمی تو آگ لگی ہے مکان میں

ڈھلتی نہیں ہے دُھوپ سروں سے کسی طرح
ملتی نہیں امان کسی سائبان میں

ٹوٹے ہیں سلسلے بھی دُعا و سلام کے
کیسی وبا یہ چھا گئی پورے جہان میں

کیونکر نہ ہو عروج درندوں کے راج کو
آرام کر رہے ہیں شکاری مچان میں

انسان جیسے آج مقید گھروں میں ہیں
یہ حادثہ نہ تھا مرے وہم و گمان میں

جلتے چراغ ہوں کہ ہو سورج کی روشنی
چہرہ بس ایک رہتا ہے میرے دھیان میں

باسی ہوں میں زمین کا سب کچھ زمین ہے
آیا مزا نہ مجھ کو فلک پر اُڑان میں

آؤ سفید رنگ فضا میں اُچھال دیں
باقی بچا نہ تیر کوئی اب کمان میں

طارق کچھ ایسا خوف دِلوں میں ہے جاگزیں
آتی نہیں ہے جان کسی طرح جان میں

Comments are closed.