التماس

(ناصر عدیم)

پلٹ جائو
مری جاں میں
قرنطینہ میںبیٹھا ہوں
تری سیماب فطرت گو بڑی بے چین رہتی ہے
مجھے سب یاد ہیں وہ ریشمی وعدے
کہستانِ نمک کی وادیوں میں جو
شتاء کے الوداع ہوتے
سروں پر تان کر ابرِ بہاراں کی سیہ چادر
سرِ سبزہ
برستی بارشوں کی چہل قدمی میں
کبھی سر زد ہوئے ہم سے
کہا تھا جو
بکھرتی سانس تک اک دوسرے کو ہم نہ چھوڑیں گے
بھُلا ڈالو
کہ میں پیماں شکن پچھلے کئی دن سے
وہ سب وعدے
شکستہ کر کے بیٹھا ہوں
مری اے ہم نفس اب میں
تعلق باہمی سانسوں کا اِیفا کر نہیں سکتا
کرونا وائرس سے ہے مری ہر سانس آلُودہ
سُنائی دے رہا اب بکھرتی سانس کا سرگم
مرے چاروں طرف جتنی کرونائی فضائیں ہیں
تمھیں یہ سونپ دُوں کیسے
اِسی خاطر کئی دن سے
میں اپنے گھر کا دروازہ مقفّل کر کے بیٹھا ہوں
پلٹ جائو
مری جاں میں
اگر اس جان لیوا وائرس سے بچ گیا
تو پھر
شکستہ عہد کی تجدید کر نے کے لیے
پھر سے
کہستانِ نمک کی مخملی وادی میں آئوں گا

Comments are closed.