کوئی اپنا نہیں خُدا کے سوا

(سَیّد مُنّور علّی وفا)

کوئی اپنا نہیں خُدا کے سوا
کوٸی چارہ نہیں دُعا کے سوا

باقی ہر شۓ کی یہاں قیمت ہے
نہیں ارزاں ہے کچھ ہوا کے سوا

سہل ہے اس کا جِھیل جانا مگر
اور بھی غم ہیں اب وبأ کے سوا

جس جگہ سایہ ساتھ دیتا نہیں
کوئی ہوتا نہیں واں ماں کے سوا

یہ نہ سمجھو کے شعر عبرت کے
کوٸی لکھتا نہیں وفاؔ کے سوا

Comments are closed.