اِس وقت پوری دنیا میں کرونا وائرس کا چرچا ہے

(پروفیسر حشمت علی کمالؔ الہامی)

اردو کلام
عالَمِ انسانیت کی سچّی خدمت کو سلام!
آزمائش کی گھڑی میں مِلّی وحدت کو سلام!
ساری دنیا کی فضا میں ہے کورونا وائرس
جنگ اس سے کرنے والی عزم و ہمّت کو سلام!
ہے خدا کی آزمائش، میں بشر کی زندگی
سُرخرو اس کو بنانے والی حکمت کو سلام!
رکھ کے جاں خطرے میں، کرتے ہیں مریضوں کا علاج
اس وطن کے اُن مَسیحائوں کی نصرت کو سلام!
ہیں سدا مَصروفِ خدمت، پاک اَفواج و پولیس
روز و شب، کی جانے والی اُن کی زَحمت کو سلام!
کر رہے ہیں جو مَدَد لوگوں کی، مشکل وقت میں
اُن کے اخلاصِ عمل کو، اُن کی دولت کو سلام!
احتیاطی ساری تدبیروں پہ کرتے ہیں عمل
فَرض سے آگاہ، اُن افرادِ ملّت کو سلام!
اس وبا کو دے رہے ہیں اہل ہمّت اب، شکست
ایسے بیباک و شجاع و اہلِ جرأت کو سلام!
اَرضِ پاکستان ہی، ہم سب کی ہے اُمّیدِ زیست
باکمالِؔ مہرو اُلفت، اپنی جنّت کو سلام!
٭٭٭٭٭

پاکستان امید زیست ایوارڈ کے مقابلے کے لیے پروفیسر حشمت علی کمالؔ الہامی سکردو کا
بلتی کلام
(۱)
میوُلی نَنگجون￿س، یَود، دُوسے، بیار نَد کرونی زینگ نَہ زَنگ
لے رگہ کھَن کون! گار مَہ کھور، کھورنارے، کھور شِک، بین چی شَنگ
(۲)
سمَن بیہ کھن کوُنی کَسَل یود، سمن چی مَید، دی نَد پولا
اِن دیوُ بے سمَن پو، می تھوکپو مُیونگ نہ، لَوقسو یقپو، نَنگ
(۳)
سنَمبَہ نا خسَمبا نہ ہَمبونگ، لیگی کھَر کھَر یَقپہ رگوس
ہلژحمہ لدَن چُوک کھَن نا ستروق مِنفی اَشیکھا یَوق ہے غدیانگ
(۴)
لَقپہ، چِکپو چِکپولا، مِنمونہ، ترود بیولا بزُورین
غدونگ نہ لقپونگ، کھڑوین ہرتَنے، یَقپا رگوسید سُوک رگوینگ نو کھڑانگ
(۵)
یُول می چوق لا، دوقفی وخپوینگ، کھوقکھولینگ یودپی بَرُو
سنِنگ نہ کھوقپونگ لا پُھویود کھَن کونی، لذوقسید، کھونگ لہ سترانگ
(۶)
ٹق دِی نَدپو، بیالہ پھَر، گڑل گڑَپ بیہ کھن لا، ج￿ُوزیرید
سمنپہ نا روخپونی￿ اَجُّو، نَدپی کھونگ لا، یود ژھڑانگ
(۷)
لے کَکا فونونگ، اَن￿و سترنگمونگ نہ شَربونگ، جُ￿ور مہ بیوس!
رگلبی اِن دی وَخ پو شوہمو،اونگمی اِن، تھدکھی تھہ سَنگ
(۸)
سترونگمو بب اِن، ستروق نہ رگونا ننگ نہ کھنگما گڑونگ نہ یُول
تُوکھمیدیکھا ننگنُو شوخ، بیونگمو پھِرَول گوید ج￿ِکھمو خیانگ
(۹)
سترونگ لُوکھی، لُوکھسینگ نُو سمق گونی￿ کسل کُون کوا رگوسید
ژھرمہ چکتوی تم ن￿یانینگ نُو دوکپہ رگوسپی اِن ن￿دانگ
(۱۰)
لے رگہ کھَن کون! یود کمالیؔ جوا یدانگ لا، شیزدے کوس!
ژھو نہ ژھو بین چی مَکھَور شیزدے یَتی، تھوب سا، شَتَنگ

پروفیسر حشمت علی کمالؔ الہامی کا بلتی زبان میں اُمّید زیست ایوارڈ 2020 ’’زیراہتمام اکادمی ادبیات‘‘ کے مقابلے کے لیے تحریر کردہ بلتی کلام کا اردو میںرواںترجمہ
(۱)
اِس وقت پوری دنیا میں کرونا وائرس کا چرچا ہے۔ اے دوستو! اوّلاً ہرگز ہرگز اپنے گھروں سے باہر نہ نکلنا!بالفرض مجبوراً کہیں نکلنا تو از حد احتیاط سے نکلنا۔
(۲)
ڈاکٹر حضرات فرماتے ہیں کہ اس وبائی بیماری کا اب تک کوئی علاج نہیں۔ بس اُن کا مشورہ یہی ہے کہ اس کا واحد علاج، سماجی فاصلہ اور گھروں میں کورنٹائن کے ساتھ رہنا ہے۔
(۳)
اِس خطرناک بیماری سے بچنے کے لیے از حد احتیاط، سوچ بچار اور حوصلوں کو بلند رکھنے کی ضرورت ہے، ساتھ ساتھ اُس خالق و مالک پریقین اور بھروسہ رکھنا چاہیے۔
(۴)
احتیاطی تدابیر کے طور پر ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے سے اور معانقہ کرنے سے مکمل گریز کرتے ہوئے منہ ہاتھ بار بار دھوتے ہُوئے، جسمانی مدافعتی نظام کو قوی اور مضبوط رکھنے کی ضرورت ہے۔
(۵)
یہ بڑی خوش آیند بات ہے کہ جب اہل وطن مشکلوں سے دو چار ہیں ایسے میں دریا دل سخی لوگ اُن کی بھرپور مدد کر رہے ہیں۔

(۶)
اِس سخت وبائی بیماری کا خاتمہ کرنے کے لیے جو لوگ انتظامات اور منصوبہ بندی کر رہے ہیں اُن سب کی خدمت میں ہم سلام عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ڈاکٹروں اور دیگر رضا کاروں اور مدد گاروں کے ہم بے حداحسان مند ہیں۔ کیونکہ اُن کے دلوں میںوبائی مریضوں کا درد ہے۔
(۷)
اے بھائیو! مائو بہنو! اور وطن کے باسیو! غم نہ کرو! دُکھ درد کے یہ دن جلدی گذر جائیں گے اور بہت جلد خوشیوں کی سحر آنے والی ہے۔
(۸)
اپنے جسم و جاں، گھروں، شہروں او ر وطن کی حفاظت کرنا ہم سب پرلازم و واجب ہے۔ بڑے آرام سے ہمیں اپنے گھروں میں بیٹھنا چاہیے۔ باہر نکلنا خطرے سے خالی نہیں۔
(۹)
حفاظتی تدابیر کے حوالے سے حکومتی ارکان اور رہنمائوں کے فرامین پر کان دھرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ہمیں بزرگوں اور علماء و فضلا کی فرمان برداری کرنی چاہیئے۔
(۱۰)
اے دوستو! آپ سب کی خدمت میں کمال کی یہ اہم ترین گذارش اور درخواست ہے براہِ کرم اس کو بغورسُنّنا ہے۔ وہ یہ کہ آپ حضرات بیجا جان بوجھ کر ٹولی ٹولی کی شکل میں خواہ مخواہ ہر جگہ گھومتے نہ پھریں!

Comments are closed.