اُداس اُداس ہوائیں سلام کہتی ہیں

(منشور مجتبی حسنین)

کرونا وائرس (COVID-19)
اُداس اُداس ہوائیں سلام کہتی ہیں
یہ غمزدہ سی فضائیں سلام کہتی ہیں
کرونا کر گیا جن پر اٹل اجل کا وار
انہیں رنجیدہ قبائیں سلام کہتی ہیں
یہ جنگ جیت کے جو اپنے گھر کو لوٹ گئے
اُن غازیوں کو شفائیں سلام کہتی ہیں
جو لاک ڈائون کو برداشت کرکے بیٹھے ہیں
انہیں صبر کی ادائیں سلام کہتی ہیں
میرے وطن کے طبیبو! تمہارے جذبے کو
وطن کی بیٹیاں مائیں سلام کہتی ہیں
تمہاری فرض شناسی کے قدر دان ہیں ہم
تمہیں ہماری دعائیں سلام کہتی ہیں
جو مو ت و زیست کی ہیں کشمکش میں ڈوبی ہوئیں
وہ مضطرب سی نگاہیں سلام کہتی ہیں
کرونا جیسی ستمگر وبا کی اس رُت میں
تمہیں کرم کی گھٹائیں سلام کہتی ہیں
پولیس، فوج، حکومت یا کوئی خدمت گار
ہر باوفا کو وفائیں سلام کہتی ہیں
جو صبح شام ہیں مصروف کارِ خیر اُنہیں
دکھی دلوں کی صدائیں سلام کہتی ہیں
وہ جن کی زیست کا منشورؔ ایسی خدمت ہے
انہیں فلک سے جزائیں سلام کہتی ہیں

Comments are closed.