اُداس اُداس

(منشور مجتبیٰ حسنین)

کرونا وائرس
)اُداس اُداس(
کوچے اُداس اُداس ہیں گلیاں اُداس اُداس سڑکیں اُداس اُداس ہیں راہیں اُداس اُداس
گلشن اُداس اُداس شجر بھی اُداس اُداس غنچے اُداس اُداس ہیں کلیاںاُداس اُداس
لیل و نہار کا بھی ہے بدلا ہوا مزاج صبحیں اُداس اُداس ہیں شامیںاُداس اُداس
انسانیت شکار کرونا کا ہو گئی سب شوخیاں اُداس ادائیں اُداس اُداس
مذہب نہ قوم نہ کوئی جغرافیائی حد کرونانے کر دیں ساریں سرحدیں اُداس اُداس
اک دوسرے سے ہاتھ ملانا محال ہے سینے اُداس اُداس ہیں بانہیںاُداس اُداس
ہر کاروبار زندگی مفلوج ہو گیا بازار اُداس اُداس دکانیںاُداس اُداس
رنگینیاں ماحول کی بے رنگ ہو گئیں چپ چپ سی ہیں ہوائیں ، فضائیںاُداس اُداس
رچ بس گئی ہے کیسی وبا ء سی ہوائوں میں خاموش ہیںنظارے ، گھٹائیں اُداس اُداس
ہر اک علاج گاہ بنی ہے مقام خوف سب کاوشیں اُ داس ، اُمیدیں اُداس اُداس
ہے زندگی کی فکر ہر اک خاص و عام کو چہرے اُداس اُداس ، نگاہیںاُداس اُداس
علم و ہنر بھی ہو گئے محدود گھر تلک کاغذ قلم اُداس ، کتابیں اُداس اُداس
اب میرے جسم پر نہیں مرضی میری کا راج یہ نعرہ سر نگوں ہے صدائیں اُداس اُداس
عیش و طرب اُداس ہیں کیف و سرور اُداس زعم ِخودی ، غرور ، انائیں اُداس اُداس
ہر اک کے منہ پہ ماسک کا پہرہ لگا ہوا لہجے اُداس اُداس ہیں ، باتیں اُداس اُداس
مندر اُداس اُداس، کلیسا اُداس اُداس مسجد اُداس اُداس ، اذانیں اُداس اُداس

کھینچی ہے ڈور ہلکی سی ربّٰ قہار نے ظلم و ستم کی ہوگئیں کڑیاں اُداس اُداس
منشورؔ زندگی کی ہے ہر شق اُداس اُداس اوراق اُداس اُداس ، تحریریں اُداس اُداس

Comments are closed.