کرونا وائرس

(ڈاکٹر عمران ظفر)

۱۔فیض احمد فیض اور کرونا وائرس،شاعر: ڈاکٹر عمران ظفر
وبا یہ ختم ہو اور خوف کا غبار چلے
چلے بھی ’’جاؤ‘‘ کہ گلشن کا کاروبار چلے
مرض یہ آفتِ جاں ہے ، کوئی مذاق نہیں
ہزاروں لوگ کرونا کا ہو شکار چلے
کسی غریب کی امداد ہے یا مشہوری
کہ فیس بک پہ سخاوت کے اشتہار چلے
مصیبتوں کی گھڑی میں نہیں ہے خوفِ خدا
ذخیرہ کر کے یہاں اور لوٹ مار چلے
گزارا کس طرح ہو گا خیال کیجیے، اگر
کسی غریب کا چھ دن نہ روزگار چلے
کرونا اور محبت میں ایک نسبت ہے
کہ ان کے آگے کسی کا نہ اختیار چلے
شکایتیں تھیں بہت ذوجہ ماجدہ کو مگر
یہ چودہ دن تو مری عاقبت سنوار چلے
ظفرؔ اداس نہیں ہم وبا سے جا کے کہو
کہ ہنستے ہنستے مصیبت کے دن گزار چلے

۲۔احمدفرازؔاور کروناوائرس،شاعر: ڈاکٹر عمران ظفر
وہم مت دل میں بٹھا، خوف سے مر جائے گا
کب برا وقت ٹھہرتا ہے ؟ گزر جائے گا
کوئی حجام نہ ملنے پہ عجب شکل ہوئی
مجھ کو اِس حال میں دیکھے گا تو ڈَر جائے گا
تو نے دینی ہے اعانت تو، تمسخر نہ اڑا
سیلفیاں گر نہ بنائے گا تو مر جائے گا؟
کسی مفلس کی انا جاگی تو اے صاحبِ زر!
’’تیری بخشش تری دہلیز پہ دَھر جائے گا‘‘
کوئی آواز میرے کان میں آتی ہے ظفرؔ
ایک ہفتہ جو رہا گھر پہ ، سدھر جائے گا

۳۔میرزا داغ ؔدہلوی اور کرونا وائرس،شاعر: ڈاکٹر عمران ظفر
وائرس ساتھ کرونا کا یہ لانا تیرا
’’ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیر‘‘
میں جو کہتا ہوں کرونا سے بہت ڈرتا ہوں
’’وہ یہ کہتے ہیں بہت دل ہے توانا تیرا‘‘
ہو نہ روپوش کرونا جو ترے ٹیسٹ میں ہے
خلق نے ڈھونڈ ہی لینا ہے ٹھکانہ تیرا
رابطہ اپنا گھٹا لے، مگر اتنا بھی نہیں
منقطع ہونے لگا، خواب میں آنا تیرا
’’مجھ کو لگ جائے نہ لوگوں سے وبا‘‘ کہتا ہے
دور رہنے کا نیا دیکھا بہانہ تیرا
میرے جذبات میں آتی ہے کوئی حدت سی
یاد آ جائے اگر، بھاپ دلانا تیرا
اب کرونا نہیں پر عشق ترا باقی ہے
جان لیوا ہے نیا روگ لگانا تیر
گھر میں رہ رہ کے ترا وزن بڑھا ہے اتنا
’’اک قیامت کا اٹھانا ہے ، اٹھانا تیرا‘‘
تیرے کوچے سے گزر ہو نہ کرونا کا کبھی
شاد ، آباد رہے یار گھرانہ تیرا
ہوئے گرویدہ ظفرؔ اہل زمانہ سارے
بھول سکتا ہے بھلا کون ہنسانا تیرا

۴۔اکبر الہ آبادی اور کرونا وائرس،شاعر: ڈاکٹر عمران ظفر
ہنگامہ ہے کیوں برپا امداد جو مانگی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے
دنیا میں کرونا کے بارے میں گماں لاکھوں
کچھ فطری سمجھتے ہیں کچھ کہتے ہیں فرضی ہے
دشمن ہے جہاں بھر کی کچھ اس کا نہیں مذہب
سب تک یہ وبا پہنچی، اٹلی ہے کہ دہلی ہے
اس موذی مرض کا حل بس گائے کا گوبر ہے
بھارت کے حکیموں نے تحقیق بتا دی ہے
ناپید ہے سپرٹ تو، مہنگا ہے سنی ٹائزر
نایاب ہوئی اب تو ڈیٹول کی شیشی ہے
اس قے کا نہیں مطلب، ہو مجھ کو کرونا بھی
ہلکی سی حرارت ہے، تھوڑی سی جو کھانسی ہے
لعنت ہو کرونا پہ، اے ساقیء مستانہ
ہر غم کو غلط کرتی انگور کی بیٹی ہے
آیا ہے کرونا بھی اب مسجد و مے خانہ
رندوں سے نمٹ لے تو مُلا کی بھی باری ہے
سب رشک کریں مجھ پر، اب شہر مقفل ہیں
قسمت تو ذرا دیکھیں، میکے مری بیوی ہے

۵۔بہادر شاہ ظفر اور کرونا وائرس،شاعر: ڈاکٹر عمران ظفر
خوف و ہراس پھیلا ہے قرب و جوار میں
جب سے وبا یہ آئی ہے اپنے دیار میں
اک پل تو یوں لگا کہ کرونا مجھے بھی ہے
میں نے علامتیں جو پڑھیں اشتہار میں
کیسی ہے یہ وبا کہ کوئی پوچھتا نہیں
بیگانے ہو کے رہ گئے اپنے دیار میں
اب احتیاط کر مرے بھائی! کہ بعد میں
رہنا نہیں ہے کچھ بھی ترے اختیار میں
میں چھینکنے لگا تو کرونا کے خوف سے
غیروں نے بیٹھنے نہ دیا بزمِ یار میں
بازار بند، گھر ہیں پڑے، اہلیہ کے ساتھ
’’قسمت میں قید لکھی تھی فصل بہار میں‘‘
کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دید کے لیے
دو ہفتے سے گزر نہ ہوا کوئے یار میں

Comments are closed.