ہر دل میں ہر نظر میں ٹھکانہ ہے خوف کا

(فیصل ریحان)
ایک کرونائی غزل

ہر دل میں ہر نظر میں ٹھکانہ ہے خوف کا
دنیا ہے مضطرب کہ زمانہ ہے خوف کا

یکلخت کل جہان کی رونق ہوئی ہے ماند
ہر شہر, قصبہ, گاؤں نشانہ ہے خوف کا

اوراق ِ زندگی پہ جہاں کیجئے نگاہ
اک داستان ِ غم ہے, فسانہ ہے خوف کا

سب کے لبوں پہ ذکر ِ کرونا ہے ان دنوں
عالم ہے کیا, نہیں, ہمہ خانہ ہے خوف کا

امید ہے کہ لوٹ کے آئے گی پھر بہار
ہے زندگی تو لفظ بے معنیٰ ہے خوف کا

Comments are closed.