تُم مسیحا ہو تمہارے دم سے مسیحائی ہے

(شاہ ذیب انجم)

نظم و با ۲۰۲۰ اور ہمارا میڈیکل سٹاف

اے طبیبو!
اے میری زمیں کی نرسو!
وبا میں نکلے ہو ایسے کہ اب جو ہو سو ہو۔۔۔

لوگ کہتے ہیں تمہیں موت کا راہی لکھوں
صفِ اول میں جو لڑتے ہیں سپاہی لکھوں
کہا کہ ’’گھر میں رہو!‘‘ تُم وبا کو نکلے ہو
کُود کر موت میں میری بقا کو نکلے ہو

با حوصلہ ، فرض شناص اور بہادر بھی ہو
اپنے وعدوں اور اِرادوں پہ قادر بھی ہو
میں جانتا ہوں شہادت بھی ہو رہی ہے نصیب
سپاہی لکھتے ہوئے پھر بھی لگ رہا ہے عجیب
کیونکہ دیکھا تمہیں میں نے بے سروسامان
نہ حملے کے لئے بم نہ کوئی تِیر کمان
نہ ہاتھ میں کوئی نیزہ نہ بارُود و بندوق
نہ کوئی ڈھال نہ سِپر نہ حفاظت کا سامان
تُم جو نکلے تو نہ لڑنے نہ لڑانے نکلے
جان داو پہ لگا کے ہم کو بچانے نکلے
نہ تمہیں نرس نہ ڈاکٹر نہ ہی طبیب لکھوں
اِس سے اعلی کِسی عہدے پہ تنصیب لکھوں
نہ ویکسینیشن ، نہ اِنجکشن نہ کوئی دَوائی ہے
بس تیرا ہونا ہی یہاں وجہ ِ شِفائی ہے
تُم مسیحا ہو تمہارے دَم سے مسیحائی ہے
طے ہوا۔۔۔۔
اے طبیبو !
اے میری زمیں کی نرسو!
تُم مسیحا ہو، تمہارے دَم سے مسیحائی ہے۔

Comments are closed.