کمالِ ضبط کو منزل کریں گے

(منظور ثاقب)

کمالِ ضبط کو منزل کریں گے
جہاں جو چاہئے اس جا دھریں گے

ہم اپنے صاف ہاتھوں سے ہر اک جا
وبا کا دیکھنا پیچھا کریں گے

توانا حوصلے جب ہم سفر ہیں
یہ سارے فاصلے ہم سے ڈریں گے

ہمارے پائوں سے واقف ہیں رستے
ہمیں یہ راستے سجدے کریں گے

جوانوں کے جواں تر حوصلوں سے
وطن کی مانگ تاروں سے بھریں گے

ہمیں امید پر پورا یقیں ہے
اسی کو ڈھال کی صورت کریں گے

محبت کے شناور جانتے ہیں
ہم اس بحرِ بلا میں بھی تریں گے

خدا کی نصرتوں کے آسرے پر
خباثت کو تہہ و بالا کریں گے

کسی دشمن سے کب کس جا ڈریں ہیں
جو اس موذی سے ہم ثاقبؔ ڈریں گے

Comments are closed.