اب تو گھر میں ہیں محصور

(ڈاکٹرمحمّد اِقبال صمصام)

اب تو گھر میں ہیں محصور
پھر بھی رہتے ہیں مسرُور

کورونا کا ہے سایہ
بھدّی لگتی ہے ہر حُور

دل کی نگری ہے ویران
شیشہ دل ہے چکنا چور

بندہ بندے سے ہے دُور
اتنا بے بس ہے مجبور

ہر گز خوف نہیں کھاتے
مسلم ہیں یہ ہے منشور

برحق ہے، تحفہ ہے موت
کورونا نہ ہم کو گُھور

وقتِ مصیبت مومن کا
رہتا ہے چہرہ پُر نور

اللہ اللہ کر صمصامؔ
خالق ہے وہ اور غفُور

Comments are closed.