عشرا ہیلو!

(ادریس بابر)

عشرا // داج

تریہہ تے چھے چھتی ورھیاں اچ اوہدا داج نئیں بنیا
بھاپا دبئی اچ پھس گیا جا کے کج کم کاج نئیں بنیا

گھر گھر دیوے ساڑے بھانویں لوں لوں ہوکا دتا
چوہری دی مترئی نوں کرونے آخری موکا دتا
دوناں صلاح رلائی پائی ایہو وکھالا بیسٹ اے
منفی اتے لیک مار کے جس کیہا مثبت ٹیسٹ اے
اوسے چوکیدار دے نال او وَکھلاپے وچوں نس گئی
پینڈا کٹ کے اپڑی ماں تاں ڈٹھا دھی رانی دھوکا دتا
غش کھاندی تے کھا کے ترس کسے گارڈ دا فون رلایا
ماں دی چیک توں کمب گئی رَن فیر روندیاں روندیاں ھس پئی
—-

عشرا // ہیلو!

گھاس پر خاص کر آج بے چینی سے منتظر
ادھ مَرے لال پیلے ہرے سیب نے ایسے ظاہر کیا
گلہری کی خالص پروفیشنل پیش قدمی سے
کچھ بھی موصوف کا لینا دینا نہیں

.. اور وہ جس نے محتاط ہمسایوں کی وارننگ!!!
دھوپ میں لہلاتے پروں سے جھٹک کر پرے کی
درختوں کے جنگل بیابان جُھرمَٹ کا چکر لگایا
شہر کی سینکڑوں سالہ تنہائی کا بار مضبوط شانوں پہ رکھے
کپکپاتی، سمٹتی گَورَیّا اِسی بینچ پر آن بیٹھی
تو اب کیا میں ہیلو نہ کہتا؟

// وبا کے بعد

فون کے جواب میں آج ڈور بیل بجی
جدائی کے یہ تیس دن کہ ساٹھ سال تھے، پتا نہیں
ہم ایک ہفتہ مسکرائے؟ دو مہینے گھورتے رہے؟ پتا نہیں
زمیں کا اس نے سرسری معائنہ کیا
فلک کا میں نے طائرانہ جائزہ لیا
سلام کے لیے دراز ہاتھ کو پرے کیا
نجانے کس نے کس کو اس طرح گلے لگا لیا
وبا کے خوف کو کراس کر کے اک قدم اٹھا لیا
ہجوم سے نظر بچا کے بار بار، ہم، بہ اختیار، چومتے رہے
نئے نویلے خواب میں وہی پرانا شہر گھومتے رہے

Comments are closed.