عجب آفت سے پالا پڑ گیا ہے نوعِ انساں کو

(منظور ثاقبؔ)

عجب آفت سے پالا پڑ گیا ہے نوعِ انساں کو
سو اب ہے ملکِ جاں سے دور رکھنا دشمنِ جاں کو

عجب دشمن سے لڑنے کی بھی تیاری عجب ہو گی
یہ برسوں یاد رکھے گا جو اس کے ساتھ اب ہو گی

گھروں کی چار دیواری فصیلوں کے برابر ہے
طہارت جسم و جاں کی سو دلیلوں کے برابر ہے

رکھیں گے ہاتھ جب ہم صاف چاہت سے محبت سے
یقیناً بچ رہیں گے ہم کرونا کی خباثت سے

ہمیں حساس چہرے کو بچانا ہے بہر صورت
سو اپنی ناک اور منہ کو چھپانا ہے بہر صورت

یہ سارا اسلحہ لے کر ہم اپنی خندقوں میں ہیں
خدا کی سمت سے نازل کرم کی بارشوں میں ہیں

ہمارے ڈاکٹر نرسیں مسیحائے زمانہ ہیں
جو میداں میں اتارے ہیں یہ دنیا میں یگانہ ہیں

محاذوں پر ڈٹے ہیں فوج کے شیرِ جواں دیکھو

جو پہناتے ہیں پائوں میں عدو کے بیڑیاں دیکھو

اگرچہ جنگ لڑتے ہیں تدبر سے ذہانت سے
مگر ہیں کامراں ہوتے خدا ہی کی مشیت سے

مرا ایمان ہے ثاقبؔ وبا کا خاتمہ ہو گا
خدا کا سایہِ رحمت سروں کو ڈھانپتا ہو گا

Comments are closed.