فرصت

(صنوبر حیات جتوئی)

ہمیں اب سوچنا ہو گا
اگر رحمان کا پیغام باقی ہے
ہمارے دل میں بھی ایمان باقی ہے
ابھی انسانیت کا درد باقی ہے
تو پھر امید باقی ہے
ہمیں اب سوچنا ہو گا
وبا ہے کیوں فضا میں بے یقینی کی
بہت خاموش ہیں آنکھیں
گلی کوچوں کی ویرانی پہ حیراں ہیں
خزاوں سا بہاروں کا بھی موسم ہے
ہمیں اب سوچنا ہو گا
کوئی امید دینی ہے ہمیں اس بے یقینی کو
حقیقت کی کوئی تصویر دینی ہے
ہمیں اس خانہء دل کو خدا کے ذکر سےآباد کرنا ہے
ہمیں ارض و سما میں غور کرنا ہے
ہمیں اب سوچنا ہو گا
اگر اغیار کرتے ہیں ہمارے درد کا مرہم
یقینا پھر ہیں قیمت میں ہزاروں سر
خدا نے کی عطا ہم کو فراصت وہ
لرزتے دل بھی ہیں اغیار کے جس سے
ہمیں اب سوچنا ہو گا
ادا حق کس طرح کرنا ہے دستارخلافت کا
وفاداری، محبت، دوستی، انسانیت کا حق

Comments are closed.