اِک عذابِ آسمانی ہے زمیں پر آ گیا

(ڈاکٹر منورؔ احمد کنڈے)

اِک عذابِ آسمانی ہے زمیں پر آ گیا
یہ جہاں بھیجا خدا نے، ہے وہیں پر آ گیا

امتحاں یہ مومنیں کا، یہ چِتونی ہے بڑی
سارے اذہاں فکر میں ہیں اب قضا سر پر کھڑی

کہہ دیا جب ’ کُن ‘ خدا نے، ہو کے رہتا ہے وہی
اس سے بچنے کے لئے کرتا جتن ہے آدمی

گھر میں ہیں محصور سارے، رب سے امیدِ شِفا
دھو رہے ہیں ہاتھ پل پل خوف وائرس کا لگا

یہ کرو نا ، وہ کرو نا ، ساری تدبیریں ہیں خوب
یہ سوا نیزے کا سورج دیکھیں ہوگا کب غروب

تھام کے رسی خدا کی سب چلیں گر ایک ساتھ
ٹال دے گا خود خدا آئی ہوئی ہر اک ممات

لازمی ہے یہ کہ مانگیں ہر مدد اللہ سے
ہر دعا دل کی صدا ہو اور زباں شاہد رہے

ہم اگر وہ ہی کریں جو چاہتا ہے ذوالجلال
دور ہم سے بھاگ لے گا سر پہ آیا ہر وبال

التجائوں کے ہیں لمحے، وقتِ اِستِغفار ہے
اہلِ عالم سے خفا الخالِق الغفّار ہے

پیروئے قرآں منورؔ ہو تو گھبرانا نہیں
احمدِ مختارؐ سے بڑھ کر کوئی مولا نہیں

Comments are closed.