کتنے کئے ہیں کاری یہ وار کرونا نے

(عامر عزیز)

کتنے کئے ہیں کاری یہ وار کرونا نے
کر ڈالا ہے سناٹا یار کرونا نے
پھیلی ہوئی ہے کیسی وہشت چاروں اور
بند کیا ہے سب کاروبار کرونا نے
جو بھی گھر سے نکلا بن ماسک میاں
اس پر کر دی ہے یلغار کرونا نے
آپ بھی راہ راست پہ یارو آ جاؤ
ورنہ چھوڑنا کب ہے تم کو یار کرونا نے
دنیا سب بے کیف ہوئی ویران ہوئی
عجب دہائی دی ہے یہ اِس بار کرونا نے
وقت کے سارے فرعونو! یہ تم سُن لو
مظلوموں کی سن لی ہے پکار کرونا نے
دنیا کے مالک کی ساری مرضی ہے
دکھلائے ہیں یہ آثار کرونا نے

Comments are closed.