وہ جس آفت نے مجھ کو اور تجھ کو یوں رلایا ہے

(منظور ثاقب)

وہ جس آفت نے مجھ کو اور تجھ کو یوں رلایا ہے
اسی آفت نے دیگر جانداروں کو بچایا ہے

اس آفت نے تو لا کر رکھ دئے انسان کے آگے
چمکتے آئنے کی شکل میں تاریخ کے دھاگے

جو دھاگہ بھی پلٹتا ہوں بہت لگتا ہوں میں کم تر
ہر اک دھاگے سے لپٹے ہیں مظالم کے مرے منظر

ہر اک کمزور کو میں نے غلام بے نوا رکھا
سب اس کے آسرے چھینے اسے بے آسرا رکھا

بس اپنی قوم ہی کو ارفع و اعلا کہا میں نے
جو تھے اس کے سواکم تر کبھی گھٹیا کہا میں نے

رکھا ہے کاروبار زندگی سب جھوٹ پر قائم
فریب و سازش و وعدہ خلافی دیں رہا دائم

مرے دست ستم سے یہ شجر بھی بچ نہیں پائے
شگوفے بچ نہیں پائے ثمر بھی بچ نہیں پائے

فضا میں روز پھیلائی ہے میں نے زہر کی چادر
فقط سیم و زرو جوہر رہے ہیں سوچ کا محور

زبان و رنگ و مذہب کا اگر کوئی سوال آیا
کوئی معیار ٹھہرایا کوئی معیار ٹھکرایا

دھکیلا ہے بہت قوموں کو میں نے جنگ میں برسوں
مری خواہش ہتھیلی پر جما لوں آن میں سرسوں

زمیں کی اب لکیروں کی رہی نا داستاں کوئی
کلیسا میی سکوں کوئی نہ کعبے میں اماں کوئی

بقائے باہمی کو منزل اول اگر کر لے
بہت ممکن ہے انساں سے خدا صرف نظر کر لے

Comments are closed.