2020 کی خودکلامی

(عنبرین صلاح الدین)

ہم زمینو!
گزشتہ برس چند سوداگروں نے محلات میں بیٹھ کر آنے والے برس کا نیا نقش نقشے پہ کھینچا
جو خلقت بچی تھی، اسے دائرہ دائرہ بانٹ کر پھر نشاں زد کیا
وہ جو محصور تھے ان کو نفرت سے دیکھا
جو آوازیں کانوں کو بوجھل لگیں، وہ دبائیں
وہ قرنوں تلک اب ہوا کے بدن میں سلگتی رہیں گی
اسی سال کچھ سرحدیں اور کھینچی گئیں، کچھ پھلانگی گئیں
اور ہواؤں میں اڑتے ہوئے لاتعلق پرندوں کی پرواز چلتی رہی

ہم زمینو!
گذشتہ برس شہر جلتے رہے، لاشے گرتے رہے
اور معیشت کے پیروں میں بیٹھے ہوئے لوگ بیٹھے رہے
ہر برس کی طرح
ہم غریبوں کو گندم کے چکر میں الجھا کے سرمایہ داری نے اونچے محل، اور اونچے کیے
اس سے پچھلا برس، اور پچھلا برس، ایک جیسے تھے سب
یاد بھی کب رہے
کون سی جنگ آغاز کیسے ہوئی
لوگ کتنے مرے
لیبیا، شام، بغداد، کابل، فلسطین، کشمیر، جلتے رہے

ہم زمینو!
یہاں اسلحہ بیچنے کے لیے چند لوگوں نے لوگوں کا سودا کیا
کون بتلائے گا؟
کچھ خشوگی بتاتا
مگر دھجیوں میں بٹا جسم کیسے بتاتا؟
وہ ایلان کردی حقیقت بتاتا
مگر ریت سے اس کے معصوم پیروں کے جوتے بھرے تھے
وہ برہان وانی کی سرسبز پرچم میں لپٹی ہوئی لاش کیسے بتاتی
یا عمران دقنیش قصہ سناتا
پہ خوں سے اٹے اپنے معصوم چہرے پہ چھائی ہوئی سرد مہری کو کیسے ہٹاتا
بتاتا تو آخر وہ کس کو بتاتا
خدا کو بتاتا؟
خدا جس کے گھر کو کئی پانچ تارا بڑے ریستورانوں نےگھیرا ہوا ہے؟

زمیں تھک گئی تھی
سو فطرت نے رعشہ زدہ ہاتھ کیسے شکنجہ بنائے ہیں
خلقت کو محصور و مجبور کرتے ہوئے لوگ بے بس پڑے ہیں
نئے سال کا سارا نقشہ ہی بکھرا ہوا ہے
نئے سال میں جنگ کے باب میں کچھ نیا تو کجا
نیوکلائی پرانا تماشا ہو، جھگڑا ہو یا تیل پر
سب محاذوں پہ خاموشی ہے
ان محلات، قلعوں میں، ایوانوں میں
سب کو اپنی پڑی ہے
وہ سناٹا ہے کہ زمیں کے تنفس کی آواز آنے لگی ہے!

Comments are closed.