خوف میں ڈوبے ہوئے، سایوں سے ڈرنے والے

(جنید آزر)

خوف میں ڈوبے ہوئے، سایوں سے ڈرنے والے
دل بڑا رکھ! کہ یہ دن بھی ہیں گزرنے والے

آزمائش کے شب و روز رہیں گے کب تک
کچھ زیادہ نہیں موسم یہ ٹھہرنے والے

فاصلے ہو ہی نہیں سکتے دلوں میں حائل
دوریوں سے نہیں ہم لوگ بکھرنے والے

وقت کا کام گزرنا ہے گزر جائے گا
ہمیں تو کرنے ہیں جو کام ہیں کرنے والے

زندگی تو کبھی تنہائی میں ملنا آ کر
تیری تصویر میں کچھ رنگ ہیں بھرنے والے

جگمگاتی ہے مری صبحِ تمنا تجھ سے
میری آنکھوں میں سرِ شام اترنے والے

ہر بلا تیری ہی رحمت سے ٹلی ہے اب تک
میرے سینے میں نئی خواہشیں بھرنے والے

Comments are closed.