عہد آشوب

(اختر عثمان)

وہ مجلسِ شبانہ و افسانہ بند ہے

مدت سے کوئے نرگس و ریحانہ بند ہے

صحرا میں خاک اڑانے کو کوئی نہیں رہا

کوئے جنوں خموش ہے ویرانہ بند ہے

اب سوختن کہ دُکھ سے پگھلتی ہے شمعِ شام

کب سے طواف و گردشِ پروانہ بند ہے

روتے ہیں کُسمپُرسی کی حالت میں قدح خوار

دروازے پر لکھا ہے کہ مے خانہ بند ہے

آزادگی کی باس نجانے کہاں گئی

ہر فرد شہرِ خواب کا اب خانہ بند ہے

ویران ہوگئے وہ شبینے وہ محفلیں

بزمِ سخن ہےبند خرد خانہ بند ہے

مدہوش و ہوش مند سب صرفِ میکدہ

اہل خرد کو چھوڑیے دیوانہ بند ہے

لگتا ہے میری روح قرنطینہ رہ گئی

خود میرے واسطے مرا کاشانہ بند ہے

وہ ہاؤ ہُو نہیں ہے وہ زخمِ رفو نہیں

شورِ طبیب و شورشِ رندانہ بند ہے

آوارگی شب کا مزا بھی نہیں رہا

من جملہ حال یہ ہے کہ مستانہ بند ہے

اب تو ہمارے ساتھ کے پنچھی بھی اُڑ گئے

دامِ وبا کھُلا ہے مگر دانہ بند ہے

نے ہاتھ ہاتھ سے نہ گلے سے گلا ملے

اختر کسی بھی قسم کا یارانہ بند ہے

Comments are closed.