جبکہ انساں نہیں جُھکا ہے ابھی

(محمد علی صابری)

جبکہ انساں نہیں جُھکا ہے ابھی
اور خُدا وقت دے رہا ہے ابھی

بند ہونے کو آ گیا شاید
یہ جو توبہ کا در کھلا ہے ابھی

پُوچھتی ہیں یہ ٹوٹتی سانسیں
اور کتنا سفر پڑا ہے ابھی

ہُو کا عالم ہے جس طرف دیکھو
خیر ہو ، امتحاں کڑا ہے ابھی

دعوتِ فکر دے دیا ہے، دوست
ایک دھچکا سا جو لگا ہے ابھی

دیکھتا ہے زمیں سَرکتی ہوئی
اپنے پیروں پہ جو کھڑا ہے ابھی

ساری دنیا پہ خوف طاری ہے
موت کا دّور چل رہا ہے ابھی

موت کا نام ہے “کورونا ” آج
یہ گناہوں کی کم سزا ہے ابھی

صابری! گِڑ گڑائیں رّب کے حضُور
کچھ بھی سمجھونہیں گیا ہےابھی

Comments are closed.