جب یہاں راہ بر ، خود بخود رک گیا

(شوکت محمود شوکت)
غزل
جب یہاں راہ بر ، خود بخود رک گیا
زندگی کا سفر ، خود بخود رک گیا

جانے کیسی وبا آئی ہے شہر میں
ہر کوئی اپنے گھر ، خود بخود رک گیا

حسنِ بے مثل گرچہ بلاتا رہا
عشقِ خود سر مگر، خود بخود رک گیا

گردشِ خوں بھی جیسے ہوئی منجمد
دل ہو وہ یا جگر خود بخود رک گیا

خوف ایسا ہے سب قہقہے چپ ہوئے
بولتا ، اک نڈر خود بخود رک گیا

کر گئی ہے اثر یوں زمیں کی کشش
میں ادھر ، وہ اُدھر خود بخود رک گیا

نکہتِ گُل ، درونِ گلستاں ہے بند
بار آور شجر ، خود بخود رک گیا

بارہا یوں ہوا سوئے شمس و قمر
بڑھتے بڑھتے بشر، خود بخود رک گیا

شوکتِ خستہ ! کیا خواہشِ وصل ہو
ہجر پل ، عمر بھر ، خود بخود رک گیا

Comments are closed.