دُور رہو اب پہلے سے حالات نہیں

(ڈاکٹرمحمد اقبال صمصامؔ)

دُور رہو اب پہلے سے حالات نہیں

دُور رہو اب پہلے سے حالات نہیں
ملنا ہاتھ ملانا اچھی بات نہیں

کورونا نے ڈالی ہے اب ایسی پُھوٹ
یاروشیدا بھی اب رہتے ساتھ نہیں

کوئل بھی نہ کُوکی باغوں میں اس بار
دیکھی ہم نے ایسی بھی برسات نہیں

بول رھی ہے دُنیا ساری مل کر جھوٹ
شب اندھیری کو بھی کہتی رات نہیں

سوہنی بھی بن ٹھن کر پھرتی رہتی ہے
د یتا اس کو ہاتھوں میں کوئی ہاتھ نہیں

کورونا پھیلا ہے پُوری دُنیا میں
سب کا دُشمن ہے کُچھ اس کی ذات نہیں

آنکھ نہیں لگتی میری تنہائی میں
یادوں کی بھی اب کوئی بارات نہیں

چہرہ تیرا اب پردے میں رہتا ہے
حُسن ترے کی اب ملتی سوغات نہیں

کل کل کہہ کے ٹالے وعدے یار مرا
کورونا کے ڈر سے مانے بات نہیں

تنہا تنہا ہی رہتا ہے تُو صمصامؔ
دیتا تیرا اب تو کوئی ساتھ نہیں

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

سُن لو کورونا یک بار

سُن لو کورونا یک بار
مانیں گے ہم بھی نہ ہار

ڈٹ کر لڑنا ہے تجھ سے
ڈالیں گے نہ ہم ہتھیار

تُجھ سے بھی کیا ڈرنا ہے
او کورونا بد اطوار

تیرے جرثومے مُہلک
زہر بجھی میری تلوار

اللہ ہی سے ڈرتے ہیں
اعلیٰ ہے اپنا کردار

مل جل کر ہم کھاتے ہیں
جب ہو بُھوکوں کی بھرمار

ہر مخلوق خُدا کی ہے
ہر اک کے ہم ہیں غمخوار

سیدھی راہ پر چل صمصامؔ
ہوگا تیرا بیڑہ پار

Comments are closed.